خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 554
خطبات طاہر جلد ۱۱ 554 خطبه جمعه ۱۴ را گست ۱۹۹۲ء اللہ تعالیٰ نے الْاَنْعَامُ یعنی چوپایوں کو جائز قرار دے دیا یعنی اُن کے گوشت سے تم استفادہ کر سکتے ہو إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُم سوائے اُس کے جس کا ذکر تم پر گزر چکا ہے کہ چو پایا بھی ہو اور حلال چو پایا بھی تب بھی اس کا گوشت نہیں کھانا یعنی وہ غیر اللہ کے لئے ذبح کیا گیا ہو بتوں پر چڑھایا گیا ہو تو فرمایا إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ سوائے ان حلال جانوروں کے جو عام حالات میں تو حلال ہیں لیکن کسی مکر وہ تعلق کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کو حرام قرار دے دیا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ اور جس سے جو بتوں سے تعلق رکھتا ہے یعنی ناپا کی اور گندگی جو بتوں سے تعلق رکھتی ہے یا شرک سے تعلق رکھتی ہے اس سے اجتناب کرو وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ اور قول زور سے اجتناب کرو یہ تا کیڈ ا فر مایا گیا ہے حُنَفَاءَ لِلهِ غَيْرَ مُشْرِكين به یہ اجتناب کن معنوں میں ہو اس کی تشریح یہ ہے کہ حُنَفَاء لِلهِ جھوٹ سے پر ہیز کرو اور اللہ کی طرف جھکا و یعنی محض جھوٹ چھوڑنے کی تعلیم نہیں ہے بلکہ جھوٹ کے بدلے خداتعالی کی پناہ میں آنا اور اس سے تعلق باندھنا غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِہ ایسا سچا ہو کہ اس میں شرک کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے، خدا کے سوا کسی قسم کا شرک بھی اس کے دل میں نہ ہو۔وہ شخص ہے جو حقیقت میں زور سے یعنی جھوٹ سے اور اوثان سے تو بہ کرتا ہے اور علیحدگی اختیار کرتا ہے وَمَنْ يُشْرِكْ بِالله اور جو شخص اللہ کا شرک اختیار کرے یا شریک ٹھہرائے ، فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ گویا وہ آسمان سے گرا ہو فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اور زمین پر گرنے سے پہلے پرندہ اُسے اُچک کر لے جائے بعض دفعہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ گوشت کے ٹکڑے او پر پھینکے جاتے ہیں تا کہ چیلیں اور کوے وغیرہ اُن کو اُچک لیں تو جب وہ نیچے گرنے لگتے ہیں تو با قاعدہ تیزی سے جھپٹ کر کوئی جانور آ کر اُن کو اُچک لیتا ہے تو یہ وہ منظر ہے جو قرآن کریم نے کھینچا ہے لیکن زمین سے اُٹھنے والی چیز نہیں ہے جو قرآن کریم نے کھینچا ہے لیکن زمین سے اٹھنے والی چیز نہیں ہے ، آسمان سے گرنے کا ذکر فرمایا ہے اَو تَهْوِى بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ یا ایسی چیز ہو جو ا کھر چکی ہواور اس میں کوئی وزن نہ رہے اور ہوائیں جس طرف چاہیں اُسے اُڑا لے جائیں یہاں تک کہ کسی دور کے مقام میں کسی ایسے مقام پر جس سے لوگ آشنا بھی نہ ہوں وہاں اس گندگی کو اُٹھا کر پھینک دیا جائے۔یہ شرک کی مثال دی گئی ہے۔اس میں جو مرکزی نکتہ میں آپ کے سامنے پیش