خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 550
خطبات طاہر جلد ۱۱ 550 خطبہ جمعہ ۷ /اگست ۱۹۹۲ء آنحضور ﷺ نے بیان فرمایا ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے قطعی ہدایت ہے کہ کسی کوحق نہیں ہے کہ اپنی بدیوں کو خود اچھالے۔پس عام حالات میں جہاں نہیں اچھالنے کا حق ہوتا ہے وہاں لوگ اچھالتے ہیں اور مجاہر بن جاتے ہیں اور جہاں اپنے فائدے مقصود ہوں وہاں اپنی ایسی بدیوں پر پردے ڈالتے ہیں جن پر پردہ ڈالنا گناہ ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔پس موقع محل کے مطابق کیسی پاکیزہ سچی تعلیم ہے اور ہر موقع کے تقاضوں کو پورا کرنے والی ہے۔جھوٹ سے پر ہیز لازم ہے لیکن جھوٹ کی اس تعریف کو پیش نظر رکھیں جو قرآن کریم کے نزدیک جھوٹ ہے۔وہی جھوٹ کہلائے گا اور جس باریکی سے قرآن کریم نے جھوٹ کی وضاحت فرمائی ہے مختلف حالات میں جھوٹ کی تعریف فرمائی ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے جھوٹ سے کلیہ پر ہیز کرنا تو حید کامل سے تعلق جوڑنے کی اہلیت عطا کرتا ہے۔اس مضمون کو سمجھنے کے بعد اب میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں۔ہر وہ احمدی جس تک میری یہ آواز پہنچے یا تحریک پہنچے کہ وہ روز مرہ کی عادت بنالے جب بھی اس پر کوئی حملہ ہو یعنی اس کے کردار پر ، اس کی ذات پر، اس کی نیتوں پر، اس کے کسی جرم کی نشاندہی کی جارہی ہو تو اچانک خود بخود رد عمل ہوتا ہے بات کرنے سے پہلے اس کا جائزہ لے لیا کرے، بات کرنے سے پہلے ذرا ٹھہر جایا کرے اور اپنے نفس کا جائزہ لے کر دیکھتے تو سہی تو کیا کر رہا تھا۔اکثر اوقات آپ اس کو بہانہ تلاش کرتے ہوئے موقع پر پکڑلیں گے۔رنگے ہاتھوں جس طرح پکڑا جاتا ہے آپ کا نفس آپ کے سامنے فوراً آجائے گا۔اوہ ہو میں تو صرف جھوٹی باتیں بیان کر رہا تھا اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو وہ جھوٹ بن کر باہر آجائے گا اور پھر آپ کے لئے مفر نہیں ہوگی بعض دفعہ ایک جھوٹ بولا جاتا ہے کبھی دو جھوٹ بولے جاتے ہیں کبھی تین جھوٹ بولے جاتے ہیں، کبھی چار بولے جاتے ہیں۔پھر جھوٹوں کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔یہ بالا رادہ کوشش کہ جھوٹ کی جو مخفی پناہ گاہیں ہیں وہاں بھی جھوٹ کو پناہ نہیں لینے دوں گا۔اپنے نفس کے اندر بھی جو وساوس کی صورت میں جھوٹ پلتا ہے یا بہانوں کی صورت میں جھوٹ پلتا ہے۔میں اس کو نگا کروں گا، اپنی نگاہ میں ننگا کروں گا۔ضروری نہیں کہ اس کو آپ باہر اچھال کر لوگوں کے سامنے لائیں اپنے سامنے اس کو اچھالا کریں، گہری نظر سے اس کا مطالعہ کریں۔تو پھر آپ وہ