خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 551

خطبات طاہر جلد ۱۱ 551 خطبه جمعه ۷ اگست ۱۹۹۲ء سفر اختیار شروع کر دیں گے جو تو حید کی طرف سفر ہے، جو تبتل کا سفر ہے۔اس ضمن میں کچھ اور احادیث نبویہ ہیں کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات ہیں وہ میں انشاء اللہ تعالیٰ اگلے جمعہ میں پیش کروں گا کیونکہ مضمون ایسا ہے اس کا بہت ہی گہرا انسانی سوسائٹی سے تعلق ہے یہ وہ بت ہے جو انسان اگر توڑے بھی تو پھر نئے بنا دیتا ہے۔یہ ایسے بت ہیں جھوٹ کے کہ ہر انسان کے اندر کے کارخانے لگے ہوئے ہیں۔روز کی زندگی میں ضرور انسان ایسے حالات سے گزرتا ہے جبکہ وہ اپنے نفس میں جھانکے تو وہ پکڑا جائے گا کہ وہ جھوٹ کے بت تراش رہا تھا۔عام تعلقات کے معاملے میں کسی کو دیکھا تو کہہ دیا کہ میں آپ ہی کی طرف جارہا تھا، مجھے آپ کا ہی خیال آرہا تھا۔چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، مہمان نوازی کے تقاضے پورے ہورہے ہیں تو غلط بات پیش کر کے اپنا اچھا اثر جمانے کی کوشش کرنا۔دل کہہ رہا ہو کہ یہ تو مصیبت بنا ہوا ہے اور زبان کہہ رہی ہے کہ شوق سے آپ نوش فرمائیں، آپ ہی کی چیز ہے۔یہ روز مرہ کے جھوٹ ہیں، میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ عام گھروں میں، عام ذہنوں میں، عام روز مرہ کے حالات میں جھوٹ پلتے ہیں اور خود گھڑے جاتے ہیں اور دکھائی نہیں دے رہے ہوتے۔ایک دفعہ کہتے ہیں کہ ایک دعوت کے موقع پر گلاب جامن کسی کے ہاں بہت اچھے بنے ہوئے تھے تو کسی عورت نے کہا کہ بہت اچھے گلاب جامن ہیں میں نے چھ کھائے ہیں بہت مزیدار تھے تو میزبان نے کہا اور کھائیں شوق سے کھائے تو آپ نے بارہ ہیں مگر گنتا کون ہے۔تو وہ دونوں جھوٹ بول رہے تھے اس کا شوق سے کھانا کہنا ہی جھوٹ ہے کہ جو گن رہا ہے کہ میرے مہمان نے بارہ گلاب جامن کھالئے اس کا دل ہر گلاب جامن پر گڑھ رہا تھا اور اس نے تعریف کرتے ہوئے اپنے زیادہ کھانے پر پردہ ڈالا اس نے بھی جھوٹ بولا اور یہ ایک لطیفہ ہے لیکن لطیفہ دونوں طرف جھوٹ کے گند رکھتا ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی میں عام باتیں ہیں۔اس کی اتنی مثالیں ہیں کہ اگر اس کی مثالیں بیان کرنی شروع کی جائیں تو ایک دن کے روز مرہ کے حالات انسان کے سامنے آتے ہیں اس پر گھنٹوں کی بحث ہوسکتی ہے مگر میں نے مثال دی ہے آپ کو۔بہت باریک اور لطیف جھوٹ کے بہانے آپ کا دل گھڑ تا رہتا ہے اور ابتدائی حالت میں یہ دکھائی نہیں دیتے مگر ایک دفعہ یہ بن جائیں تو پرورش پاتے اور پرورش پا کر