خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 547
خطبات طاہر جلدا 547 خطبہ جمعہ ۷ اگست ۱۹۹۲ء وقت چھپایا جاتا ہے جب کہ چھپانے کا حکم نہیں ہے اور اس وقت نہیں چھپایا جا تاجب چھپانے کا حکم ہے۔سچ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر جگہ اپنی برائیوں کو آپ خود اچھالتے تھے یہ بھی گناہ ہے۔مگر قول سدید کے تعلق سے جہاں سودے ہورہے ہوں جہاں رشتے طے ہو رہے ہوں وہاں ضرور آپ پر فرض عائد ہو جاتا ہے کہ اس کمزوری کو ضرور ظاہر کریں جس کمزوری کے علم کے بعد فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس نے آپ سے سودا کرنا ہے کہ نہیں کرنا۔اسی لئے حضرت اقدس محمد رسل اللہ ﷺ نے ایسے شخص پر وہ لعنت ڈالی جو گندم کی ڈھیری کے اوپر خشک گندم رکھ دیتا ہو اندر سے گیلی ہو۔(ابن ماجہ کتاب التجارات حدیث نمبر : ۲۲۱۵) چنانچہ عربوں میں دستور تھا کہ وہ گہرا ہاتھ ڈال کر دیکھا کرتے تھے جیسے دانے باہر ہیں ویسے اندر بھی ہیں کہ نہیں اور پنجاب میں تو اب بھی عام رواج ہے چاولوں کی بوری ہو، گندم کی جو مجھدار لوگ ہیں بیو پاری وہ بعض جگہوں سے وہ گہر ا سوراخ کر کے یا پیمانے اندر ڈال کر اندر کا دانہ نکال کر دیکھتے ہیں۔تو جہاں سودے ہوں وہاں آنحضرت ﷺ کی نصیحت یہ ہے کہ خود اپنے اندر کے دانے نکال کر دکھاؤ اور یہ بات معیوب نہیں بلکہ آپ کو پسند ہے لیکن عام حالات میں اگر انسان ان باتوں کو ظاہر کرے جن پر خدا تعالیٰ نے پردہ پوشی فرمائی ہو اور ایسے لوگوں پر ظاہر کرے جن پر ظاہر کرنا اس کے لئے فرض نہیں ہے۔یہ نیکی نہیں بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔اتنا حسین امتزاج ہے مختلف توازن کا مختلف پہلوؤں کا کہ اسلام کی تعلیم میں بہت ہی حسین توازن پیدا ہو جاتا ہے۔پس آنحضور ﷺ جہاں ایک طرف یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ جب بیاہ شادی کے موقع ہوں یا تجارت کے مواقع ہوں وہاں خود متعلقہ کمزوری کو نکال کر باہر پیش کیا کرو اور یہ سچائی ہے۔وہاں آنحضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت ہے کہ میں نے خود آنحضور کو فرماتے سنا کہ میری یہ ساری امت قابل بخشش ہے سوائے ان کے جو مجاہر ہے اور ہر بات کو اپنی ہر بدی سے ظاہر کرنے والے اورستاری نہ کرنے والے ہیں یہ بات ستاری نہ کرنے کے مترادف ہے کہ انسان رات کو کوئی کام کرے اور پھر صبح ہونے پر پھر دوسروں کو بتاتا پھرے۔( بخاری کتاب الادب حدیث نمبر : ۵۶۰۸) پس وہ لوگ جو گناہ کرتے ہیں اور خود اپنے گناہوں سے پردے اٹھاتے ہیں ان کے اوپر آنحضور ﷺ نے لعنت ڈالی ہے، ان کو خطر ناک مجرم قرار دیا ہے پس ان دو باتوں کو ملا کر غلط نتیجے نہ نکالیں۔جب میاں بیوی کی شادیاں ہو جا ئیں اس کے بعد میاں کا یا بیوی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ پرانی