خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 546 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 546

خطبات طاہر جلد ۱۱ 546 خطبه جمعه ۷۷اگست ۱۹۹۲ء بیاہ شادی کے جھگڑے جب بھی مجھ تک پہنچتے ہیں تو ان کا جب بھی بار یک نظر سے تجزیہ کیا جاۓ۔الا ماشاء اللہ ضرور اس میں جھوٹ کی گندگی ملی ہوئی ہوتی ہے یا قول سدید سے انحراف تو ضرور ہوتا ہے۔قول سدید کا تقاضا یہ ہے کہ ایک لڑکا بیمار ہے اس کی بیماری نظر نہیں آرہی تو یہ کافی نہیں ہے کہ انہوں نے پوچھا نہیں اس لئے ہم نے بتایا نہیں۔قول سدید کا تقاضا یہ ہے کہ پوچھے یا نہ پوچھے جس کی بیٹی لینے جارہا ہو اس کو بتاؤ کہ میرے بیٹے میں یہ نقص ہے اور اسی طرح قول سدید کا تقاضا ہے کہ بیٹی میں مخفی نقص ہیں تو ہونے والے خاوند پر یا اس کے رشتہ داروں پر کھل کر بات وضاحت سے کر دی جائے کہ یہ اس میں نقائص ہیں اب اس کو دیکھ لیں اور اس کے باوجود قبول کرتے ہیں تو ٹھیک ہے۔جولوگ قول سدید سے کام لیں ان کی شادیاں خدا کے فضل سے ہمیشہ کامیاب رہتی ہیں اور بعض ایسے آدمیوں کو میں جانتا ہوں جن پر ایک دوسرے کے عیوب خوب کھول دیئے گئے تھے۔اس کے باوجود انہوں نے قبول کیا ہے اور خدا کے فضل سے نہایت ہی اعلیٰ درجے کا جوڑ پیدا ہوا اور نہایت پاکیزہ ماحول پیدا ہوا یہاں تک کہ ہمارے یہاں مغرب کے معاشرے میں بعض بچیاں ایسی ہیں بیچاری کہ وہ کئی قسم کی گندگیوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔باہر سے آنے والے کسی نے شادی کی خواہش کی تو ان کی طرف سے بتادیا گیا یہ یہ کمزوریاں ان سے ہو چکی ہیں آگے تمہاری مرضی ہے شادی کرنی ہے تو کرو چنانچہ بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا۔ان سے میں نے کہا کہ جب جیسے رسول اللہ ﷺ نے خبر دی التائب من الذنب كمن لا ذنب له ( ابن ماجہ کتاب الزهد حدیث نمبر : ۴۲۴۰) جو گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے وہ ایسے ہے جیسے اس کا کوئی گناہ نہیں۔ایک طرف تم اس اسلام کے حسن کو دنیا میں پیش کرتے ہو۔دوسری طرف ایک ایسا شخص بڑی صاف گوئی کے ساتھ اور سچائی کے ساتھ اپنی سابقہ زندگی کو اسی لئے بتارہا ہے صرف کہ تمہیں دھوکا نہ ہو کہاں ہو اور پھر تم منہ بنا کر دوسری طرف چل پڑو گے تو یہ جائز بات نہیں۔چنانچہ بعض احمدی لڑکوں کے متعلق میرے دل میں جن کی بڑی عزت ہے انہوں نے اس بات کو سنا میں نے کہا یہ فیصلہ کرو کہ نیک ہے کہ نہیں یہ بچی آپ کی۔جو ہو چکا وہ ہو چکا اور تمہیں اس سے تعلق قائم کرتے ہوئے انقباص تو نہیں ہوگا کوئی تم اس کے حقوق تو ادا کر سکو گے کہ نہیں۔اس کے بعد بے شک شادی کرو۔چنانچہ اللہ کے فضل سے یہ شادیاں ہوئیں اور بہت ہی کامیاب اور بہت ہی پاکیزہ معاشرہ پیدا ہوا ہے لیکن جہاں چھپایا جاتا ہے وہاں بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض دفعہ اس