خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 545

خطبات طاہر جلدا 545 خطبه جمعه ۷ /اگست ۱۹۹۲ء بلا تکلف جھوٹ سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔وہ جو تم ہے جھوٹ کی یہ بعض دفعہ بہت دور تک انسانی زندگی میں تلخیاں گھول دیتی ہے۔خاص طور پر جب بیاہ شادی کا معاملہ ہو چنانچہ قرآن کریم میں بیاہ شادی کے موقع پر یعنی نکاح کے موقع پر پڑھی جانے والی آیات میں قول سدید اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔قول سدید کا مطلب یہ نہیں کہ سچ بولو - قول سدید کا مطلب ہے کہ بیچ ایسا بولو کہ اس سے کسی غلط فہمی کا کوئی امکان نہ رہے۔بعض دفعہ انسان سچ بولتا ہے لیکن سچ کے باوجود بھی غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔بعض باتوں کو چھپا لیتا ہے اور ان کا ذکر ہی نہیں کرتا لیکن جو قول سدید ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اس چیز کا ذکر کرو جس کا ذکر کرنا ضروری ہے تاکہ کوئی غلط تاثر پیدا نہ ہو۔میں نے اکثر دیکھا ہے بیاہ شادی کے جھگڑوں میں قول سدید کی کمی سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے بعد پھر وہ لوگ ہیں جو سراسر جھوٹ سے کام لیتے ہیں ان کے جو بیاہ شادی کے معاملات ہیں۔وہ تو شروع سے ہی شیطانی تعلقات سے پیدا ہونے والے ہیں اور ان سے کسی خیر کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔بعض مائیں ہیں اپنے بیٹے کیلئے رشتہ ڈھونڈنے نکلتی ہیں۔دوکوڑی کمانے والا نہ ہو اس کے متعلق ایسی جھوٹی باتیں بتاتی ہیں کہ وہ فلاں جگہ دس ہزار روپے لے رہا ہے یہ عزت ہے اور یہ خاندان ہے۔بعض دفعہ ایک لڑکے کی بات کرتی ہیں اور دوسرے لڑکے کی شادی کر دیتی ہیں۔بعض دفعہ ایک لڑکی کی بات ہورہی ہے اور دوسری لڑکی کی شادی ہو رہی ہے۔جھوٹ ، مکر ، فریب،غلاظتیں،ایساذلیل معاشرہ پیدا کرتی ہیں کہ اس کی طرف دیکھنے سے کراہت آتی ہے اور پھر اس کے باوجودان میں وہ لوگ ہیں، بہت کم سہی لیکن ہیں جو احمدی کہلانے میں فخر محسوس کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے مکر اور فریب اور ذلالت کے ذریعے تعلقات قائم کرتے ہیں جب ان کی تو قعات پورا نہیں ہوسکتیں تو طعنے دیتے ہوئے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی احمدی ہیں دیکھ لو۔مجھے طعنے دیتے ہیں کہ فلاں جگہ ہم نے شادی کی احمدی سمجھ کر اور ایسا نکلا۔بعض دفعہ مجھے ان کو بتانا پڑتا ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں آپ نے ہرگز احمدی سمجھ کر شادی نہیں کی تھی ، احمدی سمجھ کر نیک خیال کرتے ہوئے نہیں کی۔مجھے پتا ہے کہ آپ نے فلاں لالچ میں کی اور فلاں لالچ میں کی اور فلاں لالچ میں کی اور وہ لالچ الٹی پڑ گئی ہے تو اپنے آپ کو کوسنے کی بجائے آپ احمدیت کو کو سنے لگ گئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مجھے پر ذمہ داری ڈال دی اب میں آپ کی غلطیوں کا خمیازہ خود بھگتوں یا جماعت بھگتے اور آپ کو کسی طرح اس مصیبت سے نجات ملے۔