خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد ۱۱ 49 49 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء قرآن کریم کی آیات کے مضامین کو محدود کرنا یہ خود محدود عقل کی علامت ہے اور قرآن کریم کی شان کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض لوگ یہ رجحان رکھتے ہیں کہ شانِ نزول بیان کی اور معاملے کو وہیں ختم کر دیا گویا کہ ہر آیت اپنی شان نزول کے ساتھ مقید ہو کر ماضی کا حصہ بن چکی ہے یہ درست نہیں ہے۔شانِ نزول کچھ بھی ہو آیات اپنے اندر اس بات کی قومی گواہی رکھتی ہیں کہ ان کا اطلاق وسیع تر ہے اور آئندہ آنے والے زمانوں پر بھی ہوتا چلا جائے گا۔مثلاً یہی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ کہ جاہل ان کو تعفف کی وجہ سے غنی شمار کرتا ہے۔اب جہاں تک اصحاب الصفہ کا تعلق ہے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہوسکتا تھا جو اصحاب الصفہ کو غنی شمار کرتا ہو کیونکہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ہم میں سے اکثر کے پاس تو چادر بھی نہیں تھی جس کو اوڑھ داورد صلى الله۔لیتے اور کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔رات کو کوئی دوست کھانا پیش کر دیتے تھے صبح آنحضور یہ آکر ہمارا حال دریافت فرماتے اور پوچھا کرتے کہ کچھ کھانے و ملا یا نہیں؟ اور اس پر ہم عرض کرتے کہ یا رسول اللہ کچھ ملا ، تو بہت خوش ہوتے۔خدا کا شکر ادا کرتے کہ الحمد للہ خدا کی راہ میں فقیروں کو کچھ کھانے کومل گیا۔یہ کیفیت جن لوگوں کی ہو ان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ کوئی بھی جاہل خواہ کیسا بھی جاہل کیوں نہ ہوان کو امیر سمجھتا تھا اور حاجت مند نہیں سمجھتا تھا یہ ایک بالکل غلط بات ہے اس کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔پھر اگلی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا کہ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمُهُم تو اُن کے چہروں کی علامتوں سے ان کو پہچانتا ہے۔اصحاب الصفہ کوتو چہروں کی علامتوں سے پہچاننے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔وہ سب سامنے تھے۔ان کا حال ظاہر وباہر تھا۔آنحضرت ﷺ دن رات ان کی فکر میں غلطاں رہا کرتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کو پہچاننے کی ضرورت ہو۔یہ شانِ نزول تو یقیناً اصحاب الصفہ ہی ہوں گے جیسا کہ روایات میں بیان ہوا ہے لیکن تمام مسلمان سوسائٹی میں خدا کے ایسے بہت سے بندے تھے جن کے رزق کی راہیں تنگ ہو چکی تھیں اور جو عام روز مرہ کی زندگی میں اپنی غربت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہی کے متعلق آنحضرت نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جس کو دو تین کھجوریں میسر آجائیں یا دو لقمے میسر آجائیں بلکہ مسکین وہ ہے جو خدا کی راہ میں صبر کے ساتھ گزارا کرتا ہے اور کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا تا۔اپنی