خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 526 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 526

خطبات طاہر جلدا 526 خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۹۲ء جلوہ گر ہونے چاہئیں۔لوگوں کی نگاہیں محبت اور تحسین سے پڑیں تو یہ ہیں محمد مصطفی ﷺ کے غلام کہ کھانے کے آداب کوئی سیکھے تو اُن سے سیکھے، راستہ چلنے کے آداب کوئی سیکھے تو اُن سے سیکھے، راستوں کے حقوق کے آداب کوئی سیکھے تو اُن سے سیکھے۔غرضیکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام ہی میں اُن کو اپنی پناہ نظر آئے ، اسلام ہی میں اُن کی ساری بے قراریوں کا علاج ہو ، اس کا نام اسلام ہے، اسی کا نام سلامتی ہے جو ہر مسلمان سے وابستہ ہو چکی ہے۔پس آپ کھانے کے دوران ایسی حرکتیں نہ کریں جن سے جب مجھے اطلاع پہنچے تو میں شرم سے پسینہ پسینہ ہو جاؤں۔بعض لوگوں نے مجھے جلسے سے پہلے خطوط لکھے اور اس جلسے سے پہلے مجھے متنبہ کیا کہ آئندہ یہ باتیں نہ ہوں۔ایک صاحب جو شاید تشریف نہیں لائے وہ لکھتے ہیں پچھلی دفعہ میں نے دیکھا کہ کھانا جب تقسیم ہو رہا تھا تو لینے والوں نے مطالبے شروع کئے ہوئے تھے کہ دو بوٹیاں ڈالو اور چار بوٹیاں ڈالو، پانچ ڈالو اور یہ آلو ہمارے کسی کام کے نہیں ہیں، یہ شور بہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے جو تقسیم کرنے والا تھا وہ بڑی مصیبت میں مبتلا تھا ، کھانے کا جو توازن ہے وہ تو نہیں بگاڑا جا سکتا۔کھانے میں کچھ شور بہ اور کچھ بوٹیاں ہیں ، کچھ آلو ہیں اور کچھ سبزی ہو تو ہومگر آپس کا ایک توازن ہے اگر ایک مہمان ضد کر کے کوئی ایک چیز زیادہ مانگے گا تو ظاہر ہے کہ دوسرے مہمان کے لئے وہ چیز اور بھی کم ہو جائے گی نتیجہ ایسا ہو جاتا ہے۔بہت سا کھانا ضائع چلا جاتا ہے بعض لوگ اپنی حرصمیں یہ خیال کر کے ہمیں بہت بھوک لگی ہے زیادہ چیز لے لیتے ہیں پھر وہ اُن سے کھائی نہیں جاتی۔تقسیم کرنے والوں نے مجھے بتایا کہ بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے پیالوں کے اندر آلو کے ٹکڑے اور ہڈیاں ، بوٹیاں ایسی جو قابل استعمال تھی اسی طرح بچی رہ گئیں ، بعض ایسے پیالے تھے جس میں شور بے بچے رہ گئے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ بہت ادنی ادنی معمولی معمولی باتیں سہی، لیکن اعلیٰ اخلاق کے تقاضے جن سے کئے جاتے ہیں اُن کے کردار پر یہ داغ ہیں ، اُن کو زیب نہیں دیتیں بعض ظالم اور بیوقوفوں نے اسلام پر پھبتیاں کسیں جن میں سے سلمان رشدی بھی ایک تھا۔اُس کی بدبختی دیکھیں وہ کہتا ہے کہ کیسا اسلام ے کہ ہمیں چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی سکھاتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں کا پابند کرتا ہے، طہارت کیسے کرنی ہے اٹھنا کیسے ہے، وضو کیسے کرنا ہے، یہ تو پرانے زمانے کی معمولی سی چیز ہے آج کے زمانے میں اس کی ہمیں کیا ضرورت ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جو چیزیں اسلام سے کسی نے نہیں سیکھیں دنیا کی ترقی