خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد 48 خطبه جمعه ۲۴ /جنوری ۱۹۹۲ء یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورۃ البقرہ کی آیت ۲۷۴ ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ان فقراء کے لئے یہ خدمتیں اور یہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے جو خدا کی راہ میں گھیرے میں آگئے اور ایسے گھیرے میں ہیں کہ جس کے نتیجہ میں باہر نکل کر کسب معاش ان کے لئے ممکن نہیں اور وہ زمین میں کھلا پھر نہیں سکتے۔اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جانہیں سکتے يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ جاہل ان کو امیر سمجھتا ہے۔بے ضرورت سمجھتا ہے مِنَ التَّعَفُّف کیونکہ انہیں مانگنے کی عادت نہیں۔کسی بِهِ داء د وسرے کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تَعْرِفُهُمْ بِسِمُهُم یعنی اے محمد ! تو ان کی علامتوں سے جو ان کے چہرے پر ظاہر ہیں، ان کی پیشانیوں پر ظاہر ہیں ان سے ان کو پہچانتا ہے لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافَا وہ پیچھے پڑ کر لوگوں سے مانگتے نہیں ہیں۔وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللهَ بِهِ عَلِیم اور جو کچھ بھی تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو، مال دیتے ہو۔خیر سے مراد یہاں مال ہے۔فَاِنَّ اللهَ بِہ عَلِیم اللہ تعالیٰ اسے بہت جانتا ہے۔۔یہ آیت اور اس سے پہلے کی جو آیات ہیں جن میں صدقات کا مضمون بیان ہوا ہے، تمام اہل تفسیر کے نزدیک اصحاب الصفہ پر اطلاق پانے والی آیات ہیں۔اصحاب الصفہ وہ مہاجرین تھے مسجد نبوی کے ایک تھڑے پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ان کے متعلق مختلف روایات ہیں۔اصحاب الصفہ کی جو تعداد ہے اس میں بھی اختلافات ہیں لیکن بالعموم جو مستند روایات ہیں مثلاً بخاری میں بھی ستر کا ذکر ہے کہ کم و بیش ستر اصحاب الصفہ تھے جو دن رات مسجد نبوی میں ہی رہائش پذیر تھے۔ان کا پس منظر یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف آنا شروع ہوئے تو ان کے لئے گزراوقات کی کوئی صورت نہیں تھی۔مسجد میں جب ایک گروہ اکٹھا ہو جاتا تھا تو حضرت اقدس۔محمد مصطفی امیہ یہ اعلان فرمایا کرتے تھے کہ جس کے گھر دو کا کھانا ہو وہ تیسرے کو ساتھ لے جائے اس طرح یہ مہاجرین مختلف گھروں میں بٹتے رہے لیکن کچھ ایسے تھے جن کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی وہ رفتہ رفتہ اسی مسجد میں ہی بسیرا کر گئے اور ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے ستر یا بعض کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ہوگئی۔شان نزول تو اصحاب الصفہ ہی ہیں لیکن قرآن کریم کی آیات کو کسی شان نزول کی حدود میں محصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ دائمی کلام ہے اور تمام عالم پر اثر انداز ہے اس لئے شانِ نزول تک