خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 520
خطبات طاہر جلدا 520 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی لیکن جماعت کے کسی فرد نے اگر واقعہ آپ کو نقصان پہنچایا ہے تو میں شرمندہ ضرور ہوں اور جہاں تک میرا بس چلے گا میں اس کی اصلاح کی کوشش کروں گا۔تو توقعات کا معیار اتنا بلند ہے کہ جو لوگ آپ کو دنیا کی ذلیل ترین چیز قرار دیتے ہیں وہ آپ سے اعلیٰ ترین اخلاق کی توقع رکھتے ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں کا معیار آپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔پس ان بری ابتلاؤں میں بھی ایک عجیب خراج تحسین ہے۔پس میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں مگر سال میں ایک بار بھی ایسی خبر پہنچے تو اس سے تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم میں سے ایک دانہ بھی گندا ہواور پھر وہ گندا دانہ جو غیر کی نظر میں آکر جماعت کے لئے طعن کا موجب بن جائے وہ دوہری تکلیف دیتا ہے۔پس اس جلسے کے موقع پر بھی اس طرح اپنے انداز بنائیں ، اس طرح لوگوں سے میل جول رکھیں اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کریں کہ جو واقعہ اُن کے دل کی گہرائی کی توقعات ہیں اُن سے بڑھ کر اُن پر پورا اتریں۔بعض چھوٹی چھوٹی مختلف نصیحتیں بھی ہیں جو اس موقع پر کرنی ضروری ہیں۔جن لوگوں میں ہم یہاں آباد ہیں یعنی Surray کا ماحول ہے یہاں اس ماحول میں بعض لوگوں کی اپنی عادتیں ہیں جو دیرینہ قومی عادتیں ہیں۔مثلاً صفائی کا ایک معیار ہے وہ اگر چہ بد قسمتی سے اب پہلے جیسا نہیں رہا جیسا کہ انگلستان میں میں چھپیں سال پہلے ہوا کرتا تھا لیکن اب بھی تیسری دنیا کے ممالک کے مقابل پر یہ معیار بہت بلند ہیں خصوصیت سے Surray County میں کیونکہ نسبتاً زیادہ متمول لوگ رہتے ہیں اس لئے یہاں صفائی کا معیار انگلستان کے بعد دوسرے حصوں کی نسبت بہتر ہے۔کئی لوگ تماشہ بینی کے لئے یہاں آئیں گے، کئی جماعت میں دلچسپی رکھتے ہوئے یہاں آئیں گے اور چونکہ انہیں اخلاقی جانچ کا سطحی نہیں ہے یعنی گہرے اخلاق کی پڑتال نہیں کر سکتے ان کی نظر سطحی ہے بیرونی نظر سے اخلاق کو جانچتے ہیں اس لئے وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ جن غریب ملکوں سے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں اُن کی اقتصادی حالت ایسی ہے کہ طبعی طور پر صفائی کا معیار وہاں گر جایا کرتا ہے۔یہ کبھی نہیں سوچیں گے کہ لندن سے مشرق کے کنارے میں جہاں غربت زیادہ ہے وہاں گلیاں اُسی طرح سگریٹ کے ٹکڑوں اور کاغذوں اور گندی چیزوں اور کوکا کولا کے خالی ڈبوں سے بھری پڑی ہیں اور ہر طرف گندگی پھیلی ہوئی ہے حالانکہ انگلستان ہی ہے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ دراصل اس کی