خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 519

خطبات طاہر جلد ۱۱ 519 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۹۲ء پرواہ نہیں ہوئی کہ کون آیا ہے اور کون گیا ؟ اور ایسی شکایات بعض دفعہ مختلف ممالک سے بعض غیر مسلم یا غیر احمدی مسلمان لکھ کر بھی مجھے بھیجتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں کس نظر سے جماعت کو دیکھا جا رہا ہے اور کیسی کیسی اس سے توقعات کی جارہی ہیں۔یہ ایک پہلو سے جماعت کو ایک عظیم خراج تحسین بھی ہے یعنی جن برائیوں کی اطلاع دی جاتی ہے ان برائیوں میں بھی ایک خراج تحسین پوشیدہ ہے۔کوئی شخص دنیا میں کسی دنیا کے مذہبی سربراہ کو یہ طعنہ دیتے ہوئے دکھائی نہیں دے گا کہ تمہارے سے تعلق رکھنے والے فلاں شخص نے اخلاق کے اعلیٰ تقاضے پورے نہیں کئے۔یہ واقعہ جماعت احمدیہ کے سوا آج دنیا میں کہیں رونما نہیں ہوتا۔اور جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے بلاشبہ دنیا کے کونے کونے سے ہر شخص جماعت سے یہ توقعات ہی نہیں رکھتا بلکہ ہر شکایت اگر تو فیق ہو اور پتا ہو مجھ تک کیسے پہنچایا جا سکتا ہے تو مجھ تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا ، کافر گردانا، نہ دنیا کی ہر بدی اُن کی طرف منسوب کی مگر جب کسی احمدی سے مالی لین دین میں شکوہ پیدا ہوا تو بڑے لمبے خطوط مجھے لکھے اور کہا کہ آپ کی جماعت اور اس کی یہ حالت ، آپ کی جماعت کے فلاں شخص نے لین دین کے معاملے میں اعلیٰ اخلاقی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔اُس نے بحیثیت مسلمان جو اُس پر ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں اُن کو ادا نہیں کیا لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کبھی کسی نے دنیا کے کسی مولوی کو چٹھی لکھی ہو کہ تمہاری طرف منسوب ہونے والے جو اسلام کے بلند ترین مقام پر فائز بتائے جاتے ہیں، جو تمام دوسری دنیا کو کا فر گردانتے ہیں اُن میں سے فلاں کے اخلاق میں یہ گری ہوئی بات ہم نے دیکھی ہے۔چنانچہ یہ عجیب بات ہے کہ ہر سال بلاشبہ مجھے چند چٹھیاں ایسی ضرور ملتی ہیں۔بعض دفعہ بڑے بڑے صاحب اثر لوگوں کی طرف سے ہوتی ہیں، بعض دفعہ ایک عام غریب انسان کی طرف سے مگر مضمون بظاہر یہی ہے کہ جماعت احمد یہ کے فلاں شخص سے ہم نے لین دین کیا اور ہم توقع نہیں رکھتے کہ وہ ہمیں کسی پہلو سے بھی نقصان پہنچائے گا لیکن جو نقصان کا موجب بنا ہے اب آپ کی ذمہ داری ہے اس نقصان کو ادا کریں یا اُس کو پکڑیں اور اُس کی سرزنش کریں اور ہمارا نقصان اُس کو کہہ کر پورا کروائیں۔میں اُن کو لکھتا ہوں کہ جزاک اللہ آپ نے جماعت سے بلند تو قعات تو وابستہ رکھی ہیں جہاں تک میری کوشش ہے کہ میں اخلاقی دباؤ ڈال سکتا ہوں لیکن میں دنیا کی عدالت تو نہیں ہوں اور آپ نے جو غلطیاں کی ہیں اُن کی