خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 518

خطبات طاہر جلد ۱۱ 518 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء یاد دہانی کراتا ہے۔جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلام کا رواج بہت ہے لیکن سلام کا رواج تو دنیا کی ہر قوم میں ملتا ہے۔مختلف قسم کے سلام ہیں اور مختلف قسم کے آداب ہیں لیکن اسلام نے ہمیں سلام کا جو پیغام ہمیں سکھایا ہے اُس کے ساتھ امن کی ضمانت شامل ہو جاتی ہے۔جب ہم کہتے ہیں السلام علیکم ورحمتہ اللہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمہیں صرف خدا کی طرف سے سلامتی پہنچے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میری طرف سے تم امن میں ہو اور اس حیثیت سے میں خدا سے بھی دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی تمہیں امن عطا کرے اور اُس کی رحمت بھی تم پر ہو۔پس مؤمن سے دوسرا مومن ہی نہیں بلکہ ہر مذہب والا امن میں رہتا ہے اور مومن کا سلام ہر ایک کو امن کی ضمانت دیتا ہے۔اس ضمانت کے بہت سے تقاضے ہیں۔آپ کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ نہ آپ کی زبان سے کسی کو تکلیف پہنچے، نہ آپ کے عمل سے کسی کو تکلیف پہنچے، نہ آپ کی نگاہ سے کسی کو تکلیف پہنچے، نہ آپ کی لمس سے کسی کو تکلیف پہنچے بلکہ اس کے برعکس سلام کا اگلا مضمون یہ ہے کہ اُس کے دکھوں کو آپ امن میں تبدیل کرنے والے ہوں۔پس یہ دونوں پہلو ہیں جو ہر احمدی کے ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئیں۔سلام کا ایک پہلو یہ ہے کہ مجھ سے تمہیں ضرر نہیں پہنچے گا یعنی سلام کہنے والا یہ یقین دلاتا ہے کہ میری طرف سے تم امن میں ہو۔میری طرف سے تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔دوسر اسلام کا پہلو یہ ہے کہ تمہاری تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کروں گا تمہاری بے قراری کو قرار میں بدلوں گا، جو کچھ مجھ سے ممکن ہے میں تمہیں روحانی اور قلبی اور ذہنی سکون پہنچانے کی کوشش کروں گا۔پس یہ دوسرا پہلو ایسا ہے کہ جس میں آپ کو اپنے چاروں طرف دیکھتے رہنا چاہئے ، ہوشیار رہنا چاہئے کسی بچے کو تکلیف میں دیکھیں تو اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کریں، کسی راہ ڈھونڈتے ہوئے کو پریشان دیکھیں تو آگے بڑھ کر السلام علیکم کہہ کر اپنی خدمات پیش کریں اور پوچھیں کہ اُسے کیا تکلیف ہے اُسے کسی چیز کی ضرورت ہے۔غرضیکہ محض منفی پہلو اختیار نہ کریں بلکہ مثبت پہلو بھی آگے بڑھ کر اختیار کریں۔بعض دفعہ بعض غیروں کو جو ہمارے جلسوں میں یا کسی اور موقع پر تشریف لاتے ہیں یہ شکایت ہوتی ہے کہ جس طرح ہمارا اعزاز ہونا چاہئے تھا ویسا اعزاز ہمیں نہیں دیا گیا بعض دفعہ یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہم کسی شخص کے پاس جا کر کھڑے ہوئے اور اُس نے جھوٹے منہ بھی نہیں پوچھا کہ تم کیوں آئے ہو اور کس چیز کی ضرورت ہے، کچھ لوگ گپوں میں مصروف تھے ہم پاس سے گزرے اُن کو کوئی