خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 517 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 517

خطبات طاہر جلد ۱۱ 517 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء کی رضا کی خاطر آپ سے یہ توقع رکھتا ہوں۔دنیا میں انسان اپنے روزمرہ کے دستور العمل میں آزاد ہوتا ہے اورمختلف لوگ مختلف تقاضوں کے پیش نظر اپنے اعمال کی درستگی کرتے ہیں۔اصل درستگی اعمال کی وہی ہے جو خدا کی خاطر ہو اور خدا کو نگاہ میں رکھ کر کی جائے۔وہ اعمال جو دنیا کے تقاضوں کی خاطر درست کئے جاتے ہیں وہ اُسی حد تک درست رہتے ہیں جس حد تک دنیا اُن کو دیکھ رہی ہوتی ہے اور اُن کی حدو ہیں ختم ہو جاتی ہے، تنہائی کے اعمال بدل جاتے ہیں۔جب وہ دنیا اُن کو نہیں دیکھتی اُس وقت اور کردار کا انسان ظاہر ہوتا ہے یہ وہ تضاد ہے جس کو دور کرنا ضروری ہے۔پس جب آپ تکلفاً محض اللہ اپنے اعمال کو درست کریں گے، اپنے اخلاق کا معیار بلند کریں گے تو یاد رکھیں کہ یہ عارضی نصیحت نہیں ہے بلکہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو نیکی آپ نے وہاں کمائی ہوگی اُسے جاری کر دیں، ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔یہ وہ فرق ہے جو دنیا دار کی نیکی اور ایک دیندار کی نیکی میں ہوا کرتا ہے۔دنیا دار کی نیکیاں دنیا کی خاطر ہوتی ہیں۔معیار بدل جائیں ، تقاضے بدل جائیں تو نیکیاں بھی بدل جاتی ہیں مگر وہ نیکیاں جو خدا کی خاطر اختیار کی جاتی ہیں کیونکہ وہ ذات لافانی ہے اور اُس میں کوئی تبدیلی نہیں اس لئے وہ نیکیاں بھی مستحکم ہو جاتی ہیں اور قرار پکڑ جاتی ہیں۔یہ وہ خصوصیت کے ساتھ میرا آج آپ کو پیغام ہے کہ ان حالات کے علاوہ بھی اس رجحان کو اپنے اندر نشو و نما دیں کہ جو تبدیلیاں آپ کی ذات میں ہوں وہ خدا کی خاطر ہوں اور بندے کی خاطر نہیں اور تکلف بھی کریں تو خدا کی خاطر کریں۔مثلاً اس موقع پر ذرا تکلف سے اپنے اخلاق کو درست کریں گے محض اس لئے نہیں کہ لوگ آپ کو دیکھ کر آپ کو بہتر سمجھیں گے بلکہ اس لئے کہ وہ خدا کی جماعت کا تصور لے کر یہاں آئے ہیں آپ کی بدیاں دیکھ کر اُن کو ٹھوکر نہ لگے وہ یہ نہ سمجھیں کہ خدا والے ایسے ہوتے ہیں۔پس اگر چہ یہ تکلف ہے لیکن اس تکلف میں بھی ایک نیکی ہے اور اُسی نیکی کو ہمیشہ ملحوظ نظر رکھنا چاہئے ورنہ انسان میں ریا کاری پیدا ہو جاتی ہے۔اول تو اپنے اخلاق کو عام حالات سے زیادہ درست کریں اور کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنیں ،سخت کلامی بھی ہو تو نرم گفتاری سے پیش آئیں، کوئی بُرا بھلا بھی کہہ دے تو برداشت کریں، کسی سے تکلیف پہنچے تو حو صلے کا ثبوت دیں اور حلم کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کریں اور ہر ایک سے اچھی بات کہیں اور سلام کو رواج دیں۔سلام کو رواج دینا مسلمان کو ہمیشہ اس کی حیثیت کی