خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 508

خطبات طاہر جلداا 508 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء کریں۔ میزبان تو گونگا ہو جاتا ہے وہ تکلیف اٹھاتا ہے اور کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اپنے سامنے ایسی حرکتیں دیکھتا ہے جن کا بوجھ اُٹھانے کی اس کو طاقت نہیں لیکن خاموش ہے۔ مثلاً باہر سے آنے والے جب یہاں ہر گھر میں فون دیکھتے ہیں اور ان پر تالے بھی نہیں پڑے ہوتے اور براہ راست ٹیلی فون کے ذریعہ وہ دنیا میں ہر جگہ رابطے کر سکتے ہیں تو کچھ ان کے سامنے اور کچھ موقع کی تلاش کر کے ایسے وقت میں جبکہ میزبان گھر پر موجود نہ ہو یا سن نہ رہے ہوں ان فونوں کا بے دھڑک استعمال کرتے ہیں اور نتیجہ بعض دفعہ غریب گھرانوں میں میزبانی کا اتنا بوجھ نہیں پڑتا جتنا فونوں کا پڑتا ہے اور وہ مہینوں ان کے بل ادا کرتے کرتے اپنی سب آمد قریباً اسی پر لٹا بیٹھتے ہیں ۔ پس مہمانوں کو بھی خدا کا خوف کرنا چاہئے میزبان نے اپنی توفیق کے مطابق آپ کی خدمت کی اور اللہ کی ۔ تو کوئی مقصد نہیں تھا اکثر تو وہ ہمیں جو محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتے ایک دوسرے سے متعلق ہوئے ہیں۔ ذاتی مہمان بھی آتے ہیں لیکن ان دنوں میں اکثر مہمان ذاتی نہیں بلکہ الہی مہمان ہیں تو میزبانوں کے بھی حقوق ہیں ۔ مہمانوں کو چاہئے ان حقوق کا خیال رکھیں ۔ یہاں اس طرح نو کر نہیں ملتے جس طرح متمول لوگ یا درمیانے طبقہ کے لوگ بھی پاکستان اور ہندوستان میں اگر سارے وقت کا نوکر نہیں جز وقتی نوکر حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ یہاں تو ساری محنت میز بانوں کو خود کرنی پڑتی ہے۔ انگلستان میں رہنے والے خصوصاً لندن کی جو خواتین اُن کا تو یہ حال ہے کہ خدا کے فضل سے دینی خدمت بھی اتنی بھر پور کرتی ہیں کہ بعض دفعہ میں تعجب سے دیکھتا ہوں کہ اپنے روزمرہ کے بوجھ اٹھانے کے بعد ان کو یہ فرصت کہاں سے مل جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد خاوند اور بچوں کا خیال رکھنا ان کو تیار کرنا روزمرہ کے کام ہی اتنے ہیں ان کو سمیٹنا ہی بہت وقت چاہتا ہے۔ ایسے میں اگر تھوڑی جگہ میں زیادہ مہمان آجائیں تو اس سے آپ اندازہ کریں کہ ان پر کتنا بوجھ پڑتا ہوگا۔ تو کوشش یہ کرنی چاہئے کہ میزبانوں کا ہاتھ بٹائیں اور کام کو ہلکا کریں ۔ ہاتھ بٹانے کے وقت یہ بھی خیال رکھیں بعض دفعہ میزبان یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا ہاتھ بٹایا جائے ۔ ایسی صورت میں زبردستی نہیں کرنی چاہئے۔ مختلف مزاج کے میزبان ہیں اگر پیار سے اُن کو سمجھا کر اُن کو آمادہ کر لیں کہ ہماری خواہش ہے کہ آپ کی مدد کریں تو پھر ٹھیک ہے کہ ہاتھ بٹائیں لیکن زبردستی چھینا جھپٹی نہ کریں کہ نہیں ہم نے آپ کو پلیٹ نہیں اُٹھانے دیتی ۔ ہم اُٹھائیں گے کئی دفعہ چھینا جھپٹی میں قیمتی برتن بھی