خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد ۱۱ 507 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء نیچے رات گزارنے کے لئے بیٹھ رہا اس درخت کے اوپر ایک پرندے کا آشیانہ تھا پرندہ اپنی ماں سے باتیں کرنے لگا کہ دیکھو یہ مسافر جو ہمارے آشیانہ کے نیچے زمیں پر آبیٹھا ہے یہ آج رات ہمارا مہمان ہے اس کی مہمان نوازی کریں اور تو ہمارے پاس کچھ نہیں اس کی سردی دور کرنے کے لئے اپنے آشیانے کی لکڑیاں نیچے پھینک دیں تا کہ یہ جلا کر سینک لے چنانچہ ایسا ہی کیا۔پھر مشورہ کیا کہ آگ تو ہم نے مہمان کو بہم پہنچائی اب ہمیں چاہئے کہ اسے کھانے کو بھی کچھ دیں اور تو ہمارے پاس کچھ نہیں ہم خود ہی اس آگ میں جاگریں اور مسافر ہمیں بھون کر ہمارا گوشت کھا لے چنانچہ پرندوں نے ایسا ہی کیا اور مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔(ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صاحب صفحه : ۸۵) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قصہ حضرت اماں جان کے کانوں تک نہیں ٹھہرا آپ کے دل پر جا کر شبنم کی طرح گرتا رہا اور اُسے ایک لافانی لذت سے سیراب کر گیا اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا روز مرہ کا خلق یہی تھا۔جب سردی کی ضرورت پیش آئی تو خود اپنا لباس مہمانوں کے پاس پیش کر دیا، جب کھانے کی ضرورت پیش آئی تو اپنا کھانا اُن کے حضور پیش کر دیا۔تو جو کچھ انسان کو مکلف بنایا گیا وہ سب کچھ آپ نے اپنے دل کی محبت اور طبعی جوش کے ساتھ کر دکھایا۔بس یہ قصہ تب اثر انداز ہوتا ہے جب ایک شخص صاحب خلق ہو اور انسان کا دل گواہی دے کہ جو کچھ کہتا ہے اس کے ساتھ اس کے قلبی جذبات شامل ہیں۔پس یہ بھی ایک دو دنوں کی مہمان نوازی کی بات نہیں۔یہ روز مرہ کی زندگی کے قصے ہیں۔جلسہ کے مہمانوں کی تیاری کے لئے آپ کو سارا سال محنت کرنی چاہئے اور سارا سال اپنے گھر کی تربیت کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جب یہ مہمانوں کے موسم آئیں تو پھر مہمانوں کے حق اسی طرح ادا ہوں جس طرح انبیاء اور اُن سے محبت کرنے والے حق ادا کیا کرتے ہیں۔اس کے بعد جہاں تک مہمانوں کی خدمت کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ نصیحت کی مزید کوئی ضرورت نہیں رہتی۔اب مہمانوں کو بھی تو کچھ بتانا چاہئے کہ میزبانوں کے بھی کچھ حقوق ہیں ان کو بھی وہ ادا