خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 504 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 504

خطبات طاہر جلد ۱۱ 504 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء اور سب سو ر ہے تھے حضرت صاحب نے فرمایا ذرا ٹھہریئے میں ابھی انتظام کرتا ہوں۔آپ تشریف لے گئے اور دیر تک واپس تشریف نہ لائے مہمان نے خیال کیا کہ شاید حضرت بھول گئے ہیں اس نے ڈیوڑھی میں جھانکا تو دیکھا کہ ایک صاحب چار پائی بن رہے ہیں اور حضرت خود مٹی کا دیا لے کر کھڑے ہیں۔چار پائی بنی گئی اور مہمان کو دی گئی اور ادھر مہمان صاحب عرق ندامت میں غرق ہو رہے تھے کہ میں نے آدھی رات کے وقت حضرت کو اس قدر تکلیف دی ادھر حضرت اقدس عذر فرما رہے تھے کہ ”معاف کرنا چار پائی لانے میں دیر ہوگئی۔ابتدا میں مہمانوں کا کھانا حضور کے گھر سے ہی آتا تھا حضور مہمان کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے اور ایسا بھی وقوع میں آیا ہے کہ سردی کے موسم میں حضور نے مہمانوں کے لئے اپنا بستر باہر بھجوا دیا اور خود بغیر بستر کے رات گزار دی۔جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت سے آدمی اپنے بستر نہیں لائے تھے مہمانوں کے لئے اندر سے بستر لانے شروع کئے۔کارکن عشاء کی نماز کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ حضور بغلوں میں ہاتھ دیئے بیٹھے ہیں۔ایک صاحبزادہ لیٹا تھا اسے شتری چوغہ اوڑھا رکھا تھا معلوم ہوا کہ آپ نے اپنا لحاف بھی مہمانوں کے لئے بھجوا دیا۔میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی کپڑا نہیں رہا اور سردی بہت سخت ہے۔فرمانے لگے کہ مہمانوں کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور ہمارا کیا ہے۔رات گزر جائے گی پھر وہ کسی سے لحاف مانگ کر او پر لے گئے تو حضور نے فرمایا کسی اور مہمان کو دے دو اور با وجود اصرار کے حضور نے وہ لحاف نہ لیا۔(اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ: ۱۸۰) محترم سیٹھی غلام نبی صاحب نے بیان فرمایا کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات کے لئے قادیان گیا سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی میں شام کے وقت قادیان پہنچا رات کو جب