خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 501

خطبات طاہر جلد ۱۱ 501 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء وہ بھی آگے سے پنجابی تھے مگر ان پر نور نبوت ابھی پوری طرح چمکا نہیں تھا۔پنجابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی تھے لیکن جب آسمان سے نور نازل ہوتا ہے تو پھر کوئی صوبہ کوئی ملک باقی نہیں رہا کرتا لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ کا نور ہے جو اس شان سے چمکتا ہے کہ اس میں نہ رنگ به نسل نہ جغرافیائی تمیزیں کچھ بھی باقی نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہایت جلدی سے ایسی حالت میں کہ جوتا پہنا مشکل ہو گیا حضور ان کے پیچھے نہایت تیز قدم پیچھے چل پڑے چند خدام بھی ہمراہ تھے میں بھی ساتھ تھا۔نہر کے قریب جاکر ان کا یکہ مل گیا اور حضور کو آتا دیکھ کر وہ یکہ سے اتر پڑے اور حضور نے انہیں واپس چلنے کے لئے فرمایا کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے بہت درد پہنچا۔چنانچہ وہ واپس آئے حضور نے یکہ میں سوار ہونے کے لئے انہیں فرمایا کہ میں ساتھ ساتھ چلتا ہوں مگر وہ شرمندہ تھے اور وہ سوار نہ ہوئے۔اس کے بعد مہمان خانہ میں پہنچے حضور نے ان کے خود بستر اُتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر خدام نے اُتار لیا حضور نے اُسی وقت دونواری پلنگ منگوائے اور اُن پر اُن کے بستر کر دیئے اور اُن سے پوچھا کہ آپ کیا کھائیں گے اور خود ہی فرمایا کہ اس طرف تو چاول کھائے جاتے ہیں اور رات کو دودھ کے لئے پوچھا غرضیکہ اُن کی تمام ضروریات اپنے سامنے پیش فرمائیں اور جب تک کھانا نہ آیا وہیں ٹھہرے رہے۔اُس کے بعد فرمایا کہ ایک شخص جو اتنی دور سے آتا ہے راستہ کی تکلیف اور صعوبتیں برداشت کرتا ہوا یہاں پہنچ کر سمجھتا ہے کہ اب میں منزل پر پہنچ گیا ہوں اگر یہاں آکر بھی اُسے تکلیف ہو تو یقیناً اُس کی دل شکنی ہو گی ہمارے دوستوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔“ (سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم روایت نمبر ۱۰۶۹ صفحه ۶ ۵ تا ۵۷) یہ جو واقع ہے اس میں صرف مہمان نوازی کا سبق نہیں ملتا اور بھی بہت بار یک اخلاقی اسباق ہیں۔عام طور پر لوگ مہمان کی بے عزتی دیکھ کر اپنے نوکروں کی بے عزتی کرنا واجب سمجھتے ہیں کہ انہوں