خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 500

خطبات طاہر جلد ۱۱ 500 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم کپور تھلوی نے بیان کیا کہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمان مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اُتارے جائیں اور سامان لایا جائے۔۔۔۔یہ منی پور کلکتہ کے قریب ہے اور بہت دور کا فاصلہ اس زمانے میں جبکہ ریل گاڑیوں کے انتظام بھی اچھے نہیں تھے اور گاڑیاں ست رفتار کی ہوا کرتی تھیں سفر کی سہولتیں مہیا نہیں ہوا کرتی تھیں، منی پور سے کسی کا آنا ویسا ہی تھا، جیسے کسی دور کے ملک سے آرہا ہو۔بہت بڑی بات تھی۔تو حضرت منشی ظفر احمد فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ کہا کہ ہمارے بسترے اُتارے جائیں اور سامان لا یا جائے اور چار پائی بچھائی جائے تو خادمان نے کہا آپ اپنا سامان خود اتر وائیں چار پائیاں بھی مل جائیں گی۔یہ پنجابی طرز بیان ہے پنجاب میں مہمان نوازی ہو بھی تو بعض دفعہ ایسی اکھر بات کر دیتے ہیں کہ مہمان کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ جب اخلاق سے بھی بات کرتے ہیں تو جو منجھے ہوئے لوگ ہیں ان کو اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسی بات کر گئے ہیں۔تو پنجابی مہمان ہمارے کافی آئیں گے ان کو یہ خصوصیت سے یہ سمجھنا چاہئے کہ اپنے اندرانداز بیان طرز بیان میں ملائمت پیدا کریں اور موقع محل کے مطابق بات کیا کریں۔مجھے یاد ہے ہم کئی دفعہ دیہات میں جایا کرتے تھے تو بڑی عزت کے ساتھ پیش آتے تھے ، بہت ہی قربانی سے بہت محنت سے مہمان نوازی کرتے تھے لیکن آداب گفتگو نہیں ہے۔میں نے مثلاً کسی کو کہا کہ مرغ کا سالن اچھا بنا ہوا ہے آپ بھی لے لیں تو جواب دیتے تھے کہ ہم تو کھاتے ہی رہتے ہیں، آپ کھائیں۔اب یہ طرز بیان ہے اس میں بڑی سادگی تھی۔یہ نہیں تھا کہ کوئی چھیڑا گیا ہے یا یہ بتایا گیا ہے کہ آپ کو مرغا کھانے کو نہیں ملتا لیکن ایک انداز بیان ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانے کے مہمان خانہ کے جو ملازم تھے وہ سادہ لوگ تھے ان کو پتا نہیں تھا کہ کیسے گفتگو کی جاتی ہے۔چنانچہ جب مہمانوں نے یہ بات سنی تو اسی وقت رخصت ہوئے اور یکہ میں سوار ہو کر واپس روانہ ہو گئے، منشی ظفر احمد صاحب فرماتے ہیں۔” میں نے عبد الکریم صاحب سے یہ ذکر کیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے ” جانے دو ایسے جلد بازوں کو۔