خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 490
خطبات طاہر جلدا 490 خطبہ جمعہ ۷ امر جولائی ۱۹۹۲ء کے لائق نہیں لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے۔وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بچے پیدا ہوتے ہیں۔اُن کی بیویاں آتی ہیں اور بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں۔۔۔66 دونوں طرف کے تعلقات سے انسان آزمایا جاتا ہے اور دونوں طرف کے تعلقات کے پیج بوئے جاتے ہیں۔دیکھیں میاں اور بیوی کے تعلقات کتنی بڑی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔اور اس طرح پر ایسا شخص خواہ نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے۔اور اُس کی اس عادت کا دائرہ وسیع ہوکر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے لیکن جو لوگ جو گیوں کی طرح نشو ونما پاتے ہیں اُن کو اس عادت کے وسیع کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا اس لئے ان کے دل سخت اور خشک رہ جاتے ہیں۔پھر فرمایا۔وو شخص شفیع کے لئے جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے ضروری ہے کہ خدا سے اس کو ایک ایسا گہرا تعلق ہو کہ گویا خدا اس کے دل میں اُترا ہوا ہو اور اس کی تمام انسانیت مرکز بال بال میں لاھوتی بجلی پیدا ہوگئی ہو اور اس کی روح پانی کی طرح گداز ہو کر خدا کی طرف بہہ نکلی ہو اور اس طرح پر الہی قرب کے انتہائی نقطہ پر جا پہنچی ہو۔اور اسی طرح شفیع کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کے لئے وہ شفاعت کرنا چاہتا ہے اس کی ہمدردی میں اس کا دل اڑا جا تا ہو۔ایسا کہ گویا عنقریب اس پر غشی طاری ہوگی اور گویا شدت قلق سے اس کے اعضا اُس سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں اور اس کے حواس منتشر ہیں اور اس کی ہمدردی نے اُس کو اس مقام تک پہنچایا ہو کہ جو باپ سے بڑھ کر اور ماں سے بڑھ کر اور ہر ایک غم خوار سے بڑھ کر ہے۔۔۔اس عبارت کو پڑھنے کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کا حقیقی مفہوم انسان پر روشن ہوتا ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ