خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 485
خطبات طاہر جلدا صلى الله 485 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۹۲ء اُس سے تعلق جوڑو گے تو تمہاری ہر قسم کی پیاس بجھے گی تمہاری ہر قسم کی گندگی دور ہوگی اور اس سے شفع پیدا کرو، اس کے ساتھ پیوستہ ہو جاؤ، اس کے ساتھ جڑ جاؤ اور پھر تمہیں صحیح معنوں میں محمد مصطفی ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔یہ نصیب ہو جائے تو پھر قیامت کی شفاعت اس کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔وہ لوگ جنہوں نے اس دنیا میں حضرت اقدس محمد ے سے بڑے خلوص کے ساتھ ، دل کی گہرائی سے تعلق تھا، ایک خلوص کا دعویٰ ہی نہیں تھا بلکہ سارا وجود اس خلوص میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا حضرت محمد ﷺ سے تعلق قائم کیا ، اس نیت سے تعلق قائم کیا کہ آپ کے وسیلے سے خدا سے تعلق قائم ہوگا اور وہ الہی صفات جو سب سے زیادہ حضرت محمد ﷺ میں جلوہ گر ہوئیں اور کبھی اس سے پہلے کبھی کسی اور نبی میں جلوہ گر نہیں ہوئیں اور کبھی آپ کے بعد کسی آدم کی اولاد میں ان کے اس شان سے جلوہ گر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ان معنوں میں وہ نبی بھی یکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی توحید کا ایک مظہر کامل بن جاتا ہے۔اس سے تعلق جوڑو اور اُس کی صفات سے حصہ پاؤ۔اپنے وجود کو جتنا مٹاتے چلے جاؤ گے اور حضرت محمد ﷺ کے وجود میں ضم ہوتے چلے جاؤ گے۔ان معنوں میں ایک اور مقام وحدانیت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوا کہ آپ نے اپنے وجود کو مٹا کر آنحضرت کے وجود میں اپنے آپ کو کلیۂ غائب کر دیا اور سراسر اس پاک وجود میں کھوئے گئے۔پس جس طرح محمد ﷺ نے اللہ کے وجود میں کھو کر وحدانیت کا ایک نمونہ دکھایا آئندہ تمام بنی نوع انسان کے لئے اس وحدانیت تک پہنچنے کا یہ وسیلہ ہے۔کوئی انسان رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر براہ راست اس وحدانیت کے اعلیٰ مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا محمد کے ساتھ مل کر یکتا ہو جائے تب وہ یکتا کو پاسکے گا اس کے سوا یکتا تک پہنچنے کا اور کوئی رستہ نہیں ہے۔یہ مضمون ہے جسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رفته رفته مختلف منازل میں سمجھا سمجھا کر بیان فرمارہے ہیں۔فرماتے ہیں:۔۔۔وہ تو ایک ورثہ تھا جو تمہیں از خود مل گیا۔یہ وہبت ہے لیکن اس کے بعد کسب کی بھی ضرورت پیش آئے گی۔یہ تعلق جیسا کہ وہی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی ایک جز ہے ایسا ہی کیسی طور پر بھی یہ تعلق زیادت پذیر ہے یعنی جب ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ جو فطرتی محبت اور فطرتی ہمدردی بنی نوع کی اس میں موجود ہے اس میں زیادت ہو تو بقدر