خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 475
خطبات طاہر جلد اا 475 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۹۲ء رسول کریم ع کل عالم کیلئے شفیع اور حقیقی وسیلہ ہیں ۔ - داعی الی اللہ کو خدا کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ( خطبہ جمعہ فرموده ۷ ارجولائی ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائده : ٣٦) پھر فرمایا:۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی طرف جانے کے لئے وسیلہ ڈھونڈو۔ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِہ اس کی راہ میں جہاد کرو لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تا کہ تم نجات پاؤ۔ وسیلہ کا ایک عام معنی ”ذریعہ ہے یعنی ایسا راستہ جس سے انسان کسی جگہ تک پہنچتا ہے کوئی ایسا طریق جس سے انسان کسی چیز کو اختیار کرتا ہے، کوئی آلہ کار جس سے مقصود حاصل ہو اور ان معنوں میں ہر وہ عمل جو خدا کی طرف لے کے جاتا ہو وہ وسیلہ ہے۔ ہر وہ دوست جس کا تعلق خدا کی طرف لے کر جائے وہ بھی وسیلہ ہے لیکن سب سے بڑھ کر خاص معنوں میں حضرت اقدس محمدﷺ ہی وہ صلى الله وسیلہ ہیں جن کا بطور خاص یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ ہمیں حضرت اقدس محمد ﷺ نے جو دعا سکھائی کہ اذان کے بعد یہ دعا کیا کرو اس دعا میں یہ الفاظ آتے ہیں ۔ ات محمد الوسيلة والفضيلة سالم