خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 475

خطبات طاہر جلد ۱۱ 475 خطبہ جمعہ ے امر جولائی ۱۹۹۲ء رسول کریم عمل لول لول و کل عالم کیلئے شفیع اور حقیقی وسیلہ صلى الله داعی الی اللہ و خدا کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۷ ار جولائی ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائده: ۳۶) پھر فرمایا:۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی طرف جانے کے لئے وسیلہ ڈھونڈو۔وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِہ اس کی راہ میں جہاد کر ولَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تا کہ تم نجات پاؤ۔وسیلہ کا ایک عام معنی ذریعہ ہے یعنی ایسا راستہ جس سے انسان کسی جگہ تک پہنچتا ہے کوئی ایسا طریق جس سے انسان کسی چیز کو اختیار کرتا ہے، کوئی آلہ کار جس سے مقصود حاصل ہو اور ان معنوں میں ہر وہ عمل جو خدا کی طرف لے کے جاتا ہو وہ وسیلہ ہے۔ہر وہ دوست جس کا تعلق خدا کی طرف لے کر جائے وہ بھی وسیلہ ہے لیکن سب سے بڑھ کر خاص معنوں میں حضرت اقدس محمد ﷺہ ہی وہ وسیلہ ہیں جن کا بطور خاص یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ہمیں حضرت اقدس محمد اللہ نے جو دعا سکھائی کہ اذان کے بعد یہ دعا کیا کرو اس دعا میں یہ الفاظ آتے ہیں۔ات مـحـمـد الـوسـيـلـة والـفـضـيـلـة صلى الله