خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 461
خطبات طاہر جلد ۱۱ 461 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۹۲ء بیان ہوا ہے کہ دے کر زیادہ لیں۔یہ وہ تمام مقاصد ہیں جن کو باطل مقاصد کے طور پر قرآن کریم بیان فرماتا ہے اور اس تسلسل میں جو آیات ملتی ہیں ان میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کی مثال تو ایسی ہے جیسے سخت چٹان پر تھوڑی سی مٹی والی جگہ پر کوئی سبزی اُگ آئے اور جب زور سے بارش پڑے تو اس کی ساری مٹی بہہ کر اُٹھ جاتی ہے اور سبزی سمیت بہا کر لے جاتی ہے۔پس یہ عارضی اور بے معنی ہے۔اس کو ثبات کے مقابلے پر رکھا ہے۔ثبات اس چیز کا ہوتا ہے جس کو کوئی زلزلہ، کوئی ٹھوکر کوئی طوفان اپنی جگہ سے اکھاڑ نہ سکے تو جو دو مقاصد بیان ہوئے ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر جولوگ خرچ کرتے ہیں ان کو لاز ماثبات نصیب ہوتا ہے اور ثبات کے نتیجہ میں ان کی کھیتی لہلہاتی ہے اور دوہرا پھل لاتی ہے اور خزاں کی حالت میں بھی پھل دیتی ہے۔لیکن اگر بارش نہ ہو یا جب خشک سالی ہو تو اُس وقت ایسی جگہوں کے لئے شبنم ہی کافی ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے بلند مقامات جیسا کہ نقشہ کھینچا گیا ہے وہاں کی مٹی عموماً پانی اپنے اندر جذب رکھتی ہے اور موسلا دھار بارش کا پانی آنا فانا اڑ نہیں جاتا جیسا کہ پہلی سطح کی مٹی سے اڑ جایا کرتا ہے۔آج بارش ہوئی کل وہ مٹی خشک دکھائی دیتی ہے جس کی سطح پتلی ہو یا ریتلی ہو لیکن اچھی مضبوط مٹی ہو اور گاڑھی مٹی ہو اُونچی جگہ پر واقع ہو تو اُس کو نہ زیادہ بارش سے نقصان نہ کم بارش سے نقصان۔پہاڑ کی مثال کے بیچ میں ایک لفظ ربوة رکھ کر عظیم الشان مضمون بیان فرما دیا گیا۔اس میں ایک تو یہ تصویر کھینچی گئی ہے کہ مومن کی جو قربانیاں ہیں وہ بلند مرتبہ رکھتی ہیں۔اُن کا اونچا مقام ہے، ان کی قربانیاں ایسی ہیں جیسے پہاڑی پر ایک باغ لگایا گیا ہو۔اگر عام دوسرے باغ کی مثال ہوتی تو تیز بارش تو عام میدان کی فصلوں کو نقصان پہنچا دیا کرتی ہے۔اچھی سے اچھی فصلیں بھی زیادہ بارش کے نتیجہ میں تباہ ہو جایا کرتی ہیں لیکن جو فصل پہاڑ پر واقع ہو وہ ضائع نہیں ہوا کرتی کیونکہ پہاڑ زائد پانی کو نیچے پھینک دیتا ہے اور بہتے پانی سے کبھی فصل کو نقصان نہیں ہوتا۔چنانچہ جن پہاڑوں پر چائے کی فصل کاشت کی جاتی ہے وہ اسی وجہ سے کی جاتی ہے کہ چائے کو بہتا ہوا پانی چاہئے۔ذرا پانی کھڑا ہوا اور چائے کی فصل تباہ ہوگئی لیکن بہتا ہوا پانی خواہ کتنی ہی بارش ہو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔قرآن کریم نے ایک لفظ ربُوَةٍ رکھ کر اس مضمون کو کیسی وسعت دے دی اور کیسی شان عطا کر دی ہے۔یعنی مومن کی قربانی کا بلند مرتبہ بھی بیان فرما دیا اور پھر ثبات کے ساتھ اس مضمون کو جوڑ