خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 452
خطبات طاہر جلدا 452 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء ہوتا چلا جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی حالت کو بیان فرما ر ہیں کہ جب وہ دیکھ لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ ایک جائیداد گئی تو خدا اس سے بہتر دوسری جائیداد ضرور دے گا۔ایک مالی نقصان ہوا تو خدا اپنے فضل سے نقصان کو اس طرح پورا کرے گا کہ پہلے سے بہت بڑھ کر عطا فرمائے گا۔پھر تبتل کا ہونا تو کل کا ایک لازمہ ہے اور ان معنوں میں یہ دونوں لازم اور ملزوم بن جاتے ہیں۔فرماتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا تو تبتل ہے اور پھر تبتل اور تو گل توام ہیں۔تقبل کا راز ہے تو کل اور توکل کی شرط ہے تبتل یہی ہمارا مذ ہب اس امر میں ہے۔66 الحکم جلد نمبر ۳۷ صفحه ۱ تا ۳ پر چه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۱ء) یہی عبارت ملفوظات جلد اوّل صفحه ۵۵۱ تا ۵۵۵ پر بھی درج ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی ایک عبارت پیش کرتا ہوں۔فرماتے ہیں۔وو۔۔۔مرشد کامل کی ضرورت انسان کو ہے۔مرشد کامل کے بغیر انسان کا عبادت کرنا اسی رنگ کا ہے جیسے ایک نادان و نا واقف بچہ ایک کھیت میں بیٹھا ہوا اصل پودوں کو کاٹ رہا ہے اور اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ وہ گوڈی کر رہا ہے۔۔۔“ ہم نے بارہا ایسے نظارے دیکھے ہیں کہ کوئی اچھا سا پودا بہت پیار کے ساتھ گھر میں نصب کیا تو آکر دیکھا کہ بچے اس کی کھدائی کر رہے ہیں۔شاخیں کاٹ رہے ہیں اور ان کے اس حفاظتی اقدام کے بعد جو وہ اپنی طرف سے اس پودے کی حفاظت کی خاطر کر رہے ہوتے ہیں اس پودے کے بچنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔بالکل متضمحل ہو جاتا ہے۔نڈھال ہو کر گر پڑتا ہے اور ان کی وہ گوڈی ختم ہی نہیں ہو رہی ہوتی تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی ایسا ہی نظارہ دیکھا ہے اور وہ نظارہ اس موقع پر یاد آ گیا ہے کہ بعض لوگ ایک صاحب عرفان آدمی کو اپنا مطاع بنائے بغیر مرشد پکڑے بغیر اپنی ذات سے اس رنگ میں عبادت کرتے ہیں کہ ان کی جان ہلکان تو ہو جاتی ہے لیکن نہ انہیں تبتل نصیب ہوتا ہے اور نہ انہیں تو کل عطا ہوتا ہے اور ایک طرف سے اگر کاٹے جاتے