خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد ۱۱ " 451 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء اور تبتل اور توکل کے اعلیٰ مقامات کی طرف آگے بڑھے۔پھر فرماتے ہیں۔۔۔۔جب خدا کی طرف انقطاع کرتا ہے تو وہ دنیا کی طرف سے تو ڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جبکہ کامل تو کل ہو جیسے ہمارے نبی کریم کامل متل تھے ویسے ہی کامل متوکل بھی تھے۔اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم و قبائل کے سرداروں کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔آپ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا اسی لئے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپ نے اٹھالیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔یہ بڑا نمونہ ہے تو کل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔اس لئے کہ اس میں خدا کو پسند کر کے دنیا کو مخالف بنالیا جاتا ہے مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے۔۔۔“ یعنی یہ اعلی انتقام جس میں تو کل تبتل کا موجب بنتا ہے یہ تب ہوتا ہے جب انسان خدا کو دیکھ لیتا ہے۔وو۔۔۔جب تک یہ امید نہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے۔جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنالیتا ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنا دے گا۔جائیداد کھو دیتا 66 ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔۔۔یہ مضمون بھی ایسا ہے جو جماعت کے مشاہدہ میں روز مرہ آتا رہتا ہے۔بہت سے احمدی ایسے ہیں جن میں سے کچھ مجھے لکھتے ہیں اور کچھ نہیں بھی لکھتے لیکن میں جانتا ہوں کہ جو خدا پر توکل کرنے والے اور خدا کے خاص فیض کے مظہر احمدی ہیں ان کے چہرے بتا دیتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں۔وہ خدا کی خاطر مالی قربانی کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ غیب سے ایسے حالات میں جب ان کو کوئی توقع نہیں ہوتی ان کی ضرورتیں پوری فرما دیتا ہے اور بعض لوگوں کے ساتھ یہ مضمون روز مرہ اس طرح جاری رہتا ہے کہ شاید ہی کوئی دن ہو جب وہ خدا کے فیض کے ایسے جلوے نہ دیکھیں۔چنانچہ ان کا دل خدا کے لئے مالی قربانی پر اور خدا کی خاطر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے پہلے سے زیادہ کشادہ