خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 450

خطبات طاہر جلد ۱۱ 450 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء ہے۔تو وہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جبکہ کامل تو کل ہو۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس فقرے میں دونوں کنارے بیان فرما دیے ہیں اور یہ جو مضمون ہے یہ روز مرہ کی زندگی میں ایسے لوگوں پر بھی صادق آتا ہے تا کہ اُن کو خدا کے پیار کے نمونے دیکھنے اور ان کو سمجھنے کی توفیق ملے جن کا کامل تبتل نہیں ہوتا لیکن کسی ایک موقع پر وہ آزمائش پر پورا اترتے ہیں۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو کہ جہاں احمدی ہوں اور اُن کو یہ تجربے نہ ہوئے ہوں۔مجھے بعض دفعہ خطوں کے ذریعہ لوگ ان تجارب سے مطلع کرتے ہیں اور ان کی تحریر میں ایک وجدانی کیفیت ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں فلاں وقت تھا جب دنیا کا ایک سہارا تھا جس کے متعلق ہم جانتے تھے کہ یہ سہارا جھوٹ کے بغیر اختیار کرنا ممکن نہیں اور خدا کے حکموں کی نافرمانی کے بغیر اس بچاؤ کی تد بیر کو ہم اختیار نہیں کر سکتے تھے۔اس وقت ہم بڑی آزمائش میں پڑے۔آخر یہ فیصلہ کیا کہ جو ہوتا ہے ہو گزرے لیکن ہم خدا کے فرمان کو توڑتے ہوئے اس پناہ میں نہیں آئیں گے۔کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہوا اور اچانک حالات ایسے بدلے کہ جو نا ممکن دکھائی دیتا تھا وہ ممکن ہو گیا اور ہر وہ شخص جس کے ساتھ بچاؤ کے امکانات وابستہ تھے لیکن جو پہلے دشمن تھا، جو پہلے صریح مخالف تھا اُس کے دل میں پاک تبدیلیاں ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ عجیب معجزہ ہوا کہ وہ لوگ جو پہلے مخالفانہ کوششیں کر رہے تھے وہ تائید میں کوشش کرنے لگے۔یہ مضمون اس طرح بھی صادق آتا ہے بالکل ناممکن دکھائی دینے والے کام پر وہ غیب سے ممکن ہو کر ابھرتے ہیں اور انسان اپنے خدا کونئی صورت میں پاتا ہے اور اس فیض کے جلوؤں کو دیکھتا ہے۔یہ تبتل کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے جبکہ ابھی تو کل نہیں ہوا لیکن یہ نمونے اس لئے دکھائے جاتے ہیں تا کہ تو کل کے نتیجہ میں پھر تبتل پیدا ہو۔جب انسان تقتل کے بعد تو کل کو پالیتا ہے۔جب دیکھتا ہے کہ مجھے گرتے ہوئے کو خدا کے ایک غیبی ہاتھ نے سنبھال لیا تو پھر خدا کی خاطر گرنا طبیعت پر دوبھر نہیں ہوتا۔خدا کی خاطر ہر خطرے میں چھلانگ لگانے کے لئے اس کو آسمان سے ایک نئی طاقت عطا ہوتی ہے۔خدا کے فضل کے یہ جزوی نمونے اور اس کا ولی اور متوکل بن جانا اس غرض سے ہے تا کہ مومن اس سے اگلے قدم اٹھائے