خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 449
خطبات طاہر جلدا 449 خطبہ جمعہ ۳ / جولائی ۱۹۹۲ء کیا آپ کو تکالیف پیش آئیں مگر کچھ بھی پرواہ نہیں کی کوئی لالچ اور طمع آپ کو کام سے روک نہ سکا جو آپ خدا کی طرف سے کرنے آئے تھے۔جب تک انسان اس حالت کو اپنے اندر مشاہدہ نہ کرلے اور امتحان میں پاس نہ ہوئے کبھی بھی بے فکر نہ ہو پھر یہ بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ جو شخص متبتل ہوگا متوکل بھی وہی ہوگا۔۔۔“ پھر اس آیت کریمہ کے آخر پر جو میں نے ابھی تلاوت کی تھی اللہ تعالیٰ تبتل کے بعد تو کل الیہ کا مضمون بیان فرماتا ہے۔ادھر تبتل کروا دھر تو کل کرو اور یہ دونوں لازم ملزوم ہیں۔بعض دفعہ تو کل کے نتیجہ میں تبتل پیدا ہوتا ہے اور بعض دفعہ تبتل کے نتیجہ میں تو کل پیدا ہوتا ہے اور یہ دونوں مضمون بعض دفعہ ایک دم بیک وقت اس طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں کہ ایک انسان کے لئے تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اگر آپ اپنے نفس کے حالات کا گہرا مطالعہ کرنے کے عادی ہوں اور اپنی نیوں کی کنہہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان با وجود اس خوف کے دنیا سے قطع تعلق کرتا ہے کہ اس کے بعد کوئی بھی اس کا سہارا نہیں رہا۔وہ ایک قسم کا خلاء میں چھلانگ مارتا ہے اور اس چھلانگ لگانے کے نتیجہ میں وہ خدا کے پیار کے ہاتھوں میں آجاتا ہے اور وہ پیار کے ہاتھ اسے گرنے سے بچالیتے ہیں۔پس بعض دفعہ تبتل پہلے پیدا ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں تو کل پیدا ہوتا ہے۔بعض دفعہ تو کل ایک صاحب عرفان کو اتنا گہرائی کی حد تک نصیب ہوتا ہے کہ اس کے لئے تبتل کے معنی کوئی نہیں رہتے۔اور تبثل تو کل کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔وہ جسے ہر طرف خدا ہی خدا دکھائی دینے لگے اور اس کے سوا ہر دوسری چیز بے حقیقت اور بے معنی نظر آنے لگ جائے اور دل کو محسوس ہونے لگ جائے تو اس کا تنتل ایک طبعی تبتل ہے۔اُس کے تعلقات غیر اللہ سے کمزور پڑتے پڑتے از خود بالکل مٹ جاتے ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جو شخص متبل ہوگا متوکل بھی ہوگا۔گویا متوکل ہونے کے واسطے متبتل ہونا شرط ہے کیونکہ جب تک اوروں کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ اُن پر بھروسہ اور تکیہ کرتا ہے۔اُس وقت تک خالصہ اللہ پر توکل کب ہو سکتا ہے۔جب خدا کی طرف انقطاع کرتا