خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 448
خطبات طاہر جلد ۱۱ 448 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء اور کوئی خوف شماتت کا انہیں دامنگیر نہ ہوتا بلکہ وہ خدا کی طرف دوڑتے پس تم یادرکھو کہ تم ہر کام میں دیکھ لو کہ اس میں خدا راضی ہے یا مخلوق خدا۔جب تک یہ حالت نہ ہو جاوے کہ خدا کی رضا مقدم ہو جاوے اور کوئی شیطان اور رہزن نہ ہو سکے اس وقت تک ٹھوکر کھانے کا اندیشہ ہے لیکن جب دنیا کی برائی بھلائی محسوس ہی نہ ہو بلکہ خدا کی خوشنودی اور ناراضگی اس پر اثر کرنے والی ہو یہ وہ حالت ہوتی ہے جب انسان ہر قسم کے خوف وخون کے مقامات سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں شامل ہو کر پھر اس سے نکل بھی جاتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کا شیطان اس لباس میں ہنوز اس کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اگر وہ عزم کر لے کہ آئندہ کسی وسوسہ انداز کی بات کوسنوں گا ہی نہیں۔تو خدا اسے بچالیتا ہے۔ٹھوکر لگنے کا عموماً یہی سبب ہوتا ہے کہ دوسرے تعلقات قائم تھے۔اُن کو پرورش کے لئے ضرورت پڑی کہ ادھر سے ست ہوں۔ستی سے اجنبیت پیدا ہوئی۔۔۔“ مراد یہ ہے کہ جب دوسرے تعلقات ابھی قائم رہیں اور ان شاخوں کو انسان سرسبز رکھنا چاہے۔یہ وہ مضمون ہے جو بیان فرما رہے ہیں۔ان کو تازہ کرنے کے لئے ضرورت پڑی کہ ادھر سے سست ہوں تو وہ زندگی کا چشمہ جو انسان کے دل سے پھوٹتا ہے وہ بیک وقت دورخوں پر نہیں بہہ سکتا۔جس طرح زمیندار کھالے کے آگے بند باندھ کر ایک کھیت سے تعلق تو ڑتا ہے تو پھر دوسرے کھیت کو پانی دیتا ہے۔بالکل وہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں کہ ادھر ضرورت پڑی تو ادھر سے ستی ہو گئی۔خدا کا تعلق کاٹ کر پھر دنیا کے تعلقات کو سنبھالا جارہا ہے اور ان کی نشو ونما کی جارہی ہے۔سستی سے اجنبیت پیدا ہوئی جب خدا سے تعلق میں ستی پیدا ہو تو اس سے اجنبیت آجاتی ہے۔“ پھر فرماتے ہیں۔پھر اس سے تکبر اور پھر انکار تک نوبت پہنچتی۔۔۔تبتل کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبر خدا ہیں۔نہ آپ کو کسی کی مدح کی پرواہ نہ ڈم کی۔کیا