خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 442
خطبات طاہر جلد ۱۱ 442 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء جب اس کو مال اور جان کے دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اُن سے اُن کی جانوں اور مالوں یا اور عزیز ترین اشیاء کی قربانی چاہتا ہے حالانکہ وہ اشیاء اُن کی اپنی بھی نہیں ہوتی۔۔۔“ یعنی خدا کی دی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ میں نے اپنی طرف سے تشریح کی ہے۔الله۔لیکن پھر بھی وہ مضائقہ کرتے ہیں۔ابتد البعض صحابہ کو اس قسم کا ابتلاء پیش آیا۔رسول اللہ یہ و بناء مسجد کے واسطے زمین کی ضرورت تھی۔ایک شخص سے زمین مانگی تو اُس نے کئی عذر کر کے بتادیا کہ میں زمین نہیں دے سکتا۔اب وہ شخص رسول اللہ ﷺ پر ایمان لایا تھا اور نہ اللہ کے رسول کو سب پر مقدم کرنے کا عہد کیا تھا لیکن جب آزمائش اور امتحان کا وقت آیا تو اُس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔گو آخر کار اُس نے وہ قطعہ دے دیا۔تو بات اصل میں یہی ہے کہ کوئی امر محض بات سے نہیں ہو سکتا جب تک عمل اس کے ساتھ نہ ہو اور عملی طور پر صحیح ثابت نہ ہوتا جب تک امتحان ساتھ نہ ہو۔ہمارے ہاتھ پر بیعت تو یہی کی جاتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا اور ایک شخص کو جسے خدا نے اپنا مامور کر کے دنیا میں بھیجا ہے اور جو رسول صلى الله اللہ ﷺ کا نائب ہے۔جس کا نام حکم اور عدل رکھا گیا ہے اپنا امام سمجھوں گا۔اس کے فیصلے پر ٹھنڈے دل اور انشراح قلب کے ساتھ رضا مند ہو جاؤں گا لیکن اگر کوئی شخص یہ عہد اور اقرار کرنے کے بعد بھی ہمارے کسی فیصلہ پر خوشی کے ساتھ رضامند نہیں ہوتا۔۔۔“ پر رضامند ہونے کا نہیں فرما ر ہے بلکہ فرمارہے ہیں کہ فیصلہ پر خوشی کے ساتھ رضامند نہیں ہوتا۔”۔۔۔بلکہ اپنے سینہ میں کوئی روک اور اٹک پاتا ہے تو یقیناً کہنا پڑے گا کہ اس نے پورا تبتل حاصل نہیں کیا اور وہ اس اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا جو تبتل کا مقام کہلاتا ہے بلکہ اس کی راہ میں ہوائے نفس اور دنیوی تعلقات کی روکیں اور زنجیریں باقی ہیں اور ان حجابوں سے وہ باہر نہیں نکلا جن کو پھاڑ کر