خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 441
خطبات طاہر جلد ۱۱ 441 خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۹۲ء اختیار کیا جائے۔منطقیوں یا نحویوں کی طرح معنی کرنا نہیں ہوتا بلکہ حال کے موافق معنی کرنے چاہئیں۔ہمارے نزدیک اُس وقت کسی کو متبتل کہیں گے جب وہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام اور رضا کو دنیا اور اس کی متعلقات و مکروہات پر مقدم کرے کوئی رسم و عادت کوئی قومی اصول اس کار ہنرن نہ ہو سکے۔۔۔“ کوئی رسم ، کوئی عادت، کوئی قومی جذ بہ یا قومی وفاداریاں خدا کے تعلق پر ڈا کے نہ ڈالیں اس کے رہنرن نہ بن جائیں۔۔۔“ "۔۔۔نہ نفس رہزن ہو سکے، نہ بھائی نہ جورونہ بیٹا نہ باپ۔غرض کوئی شئے اور کوئی بھی متنفس اس کو خدا تعالیٰ کے احکام اور رضا کے مقابلہ میں اپنے اثر کے نیچے نہ لا سکے اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ایسا اپنے آپ کو کھو دے کہ اس پر فنائے اتم طاری ہو جائے اور اس کی ساری خواہشوں اور ارادوں پر ایک موت وارد ہو کر خدا ہی خدارہ جاوے۔دنیا کے تعلقات بسا اوقات خطرناک رہزن ہو جاتے ہیں۔حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی رہزن حضرت تو ہوگئی۔پس تبتل تام کی صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ ایک سکر اور فنا انسان پر وارد ہومگر نہ ایسی کہ وہ اسے خدا سے گم کرے بلکہ خدا میں گم کرے۔غرض عملی طور پر تبتل کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے جبکہ ساری روکیں دور ہو جائیں اور ہر قسم کے حجاب دور ہو کر محبت ذاتی تک انسان کا رابطہ پہنچ جاوے اور فناء اتم ایسی حاصل ہو جاوے۔قیل وقال کے طور پر تو سب کچھ ہو سکتا ہے اور انسانی الفاظ اور بیان میں بہت کچھ ظاہر کر سکتا ہے مگر مشکل ہے تو یہ کہ عملی طور پر اسے دکھا بھی دے جو وہ کچھ کہتا ہے۔یوں تو ہر ایک جو خدا کو ماننے والا ہے پسند بھی کرتا ہے اور کہہ بھی دیتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کوسب پر مقدم کروں اور مقدم کرنے کا مدعی بھی ہو سکتا ہے لیکن جب ان آثار اور علامات کا معائنہ کرنا چاہیں جو خدا کے مقدم کرنے کے ساتھ ہی عطا ہوتے ہیں تو ایک مشکل کا سامنا ہو گا۔بات بات پر انسان ٹھوکر کھاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں