خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 440
خطبات طاہر جلد ۱۱ 440 خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۹۲ء کر۔جب دنیا تجھ سے کاٹی گئی تو خدا سارے کا سارا تیرا ہو جائے گا۔اس کے بعد کا مضمون پھر کیا ہوتا ہے؟ دنیا سے کٹنے کے معنی کیا ہیں؟ کیا دنیا سے بے تعلقی کے نتیجہ میں دنیا سے کاٹا جاتا ہے یا اور وجوہات ہیں؟ تَبَتُل کا یہ معنی کرنا کہ دنیا سے بے رغبتی کرلے اور دنیا سے نفرت کرلے درست نہیں ہے کیونکہ اگر دنیا سے نفرت ہو جائے تو پھر اُس دنیا میں واپسی کا کوئی سامان پیدا نہیں ہوتا۔وہ دنیا جسے نفرت اور دلی قلبی تعلق کے کٹنے کی وجہ سے انسان چھوڑتا ہے پھر وہاں دوبارہ واپس آکر کیا کرنا ہے لیکن یہ جو بے تعلقی ہے اس میں تعلق کا ایک مضمون بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔دنیا کے تعلقات موجود ہیں لیکن ان تعلقات کو اس طرح منقطع کر دے کہ ان میں قوت اور غلبہ نہ رہے اور جب بھی وہ خدا کے تعلق کے مقابل پر آئیں ان کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے لیکن فی ذاتہ دنیا ہے کلیۂ تعلق تو ڑ نا مراد نہیں ہے تعلق رکھتے ہوئے بھی عملاً ایسی صورت اختیار کرنا جیسے یہ تعلق ثانوی اور بے حیثیت ہے اور بے حقیقت ہے۔تو پھر اس تعلق میں ایک نئی زندگی پیدا ہوتی ہے۔اس زندگی کے متعلق حضرت مسیح موعود نے پہلے تبتل کی تفصیلی تشریح فرمائی اس کے بعد زندگی پر روشنی ڈالی پھر بنی نوع انسان سے ایک نیا تعلق جو پیدا ہوتا ہے اس مضمون کو بڑی گہری فراست اور عرفان کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تشریح فرمائی ہے اس کا ایک پس منظر ہے۔چنانچہ ۱۳ ستمبر ۱۹۰۱ء میں یہ بات الحکم میں شائع ہوئی ہے۔ایڈیٹر لکھتے ہیں کہ تبتل کی حقیقت جو ۱۳ ستمبر ۱۹۰۱ء کو جو مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس حجتہ اللہ علی الارض مسیح موعود دام اللہ فیوضہم نے سید امیر علی شاہ صاحب ملہم سیالکوٹی کے استفسار پر بیان فرمائی۔سید امیر علی شاہ سیالکوٹ کے ایک بزرگ تھے، صاحب الہام تھے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے البهاما یہ ارشاد فرمایا کہ اگر تبتل کے معنی سیکھنے ہیں تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دریافت کریں۔اس بنا پر انہوں نے سوال کیا اور حضرت اقدس نے اس کی تشریح فرمائی۔آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں وہ تشریح یہ ہے۔”میرے نزدیک رویا میں یہ بتانا کہ تبتل کے معنی مجھ سے دریافت کئے جائیں۔اس سے یہ مراد ہے کہ جو مذہب میرا مذ ہب اس بارہ میں ہے وہ