خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 413
خطبات طاہر جلدا 413 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۹۲ء ك ماله وما عليها سے واقف ہوتے ، مثبت اور منفی پہلوؤں سے پوری طرح باخبر ہو جاتے ہیں۔نقصانات سے باخبر ہوتے ہیں فوائد سے باخبر ہوتے ہیں اور جب بلاتے ہیں تو کامل یقین کے ساتھ بلاتے ہیں۔ایک ذرہ بھی شک نہیں ہوتا کہ جس سمت میں ہم بلا رہے ہیں ہم ہو کر آئے ہیں، ہم نے دیکھ لیا ہے۔وہ چیز جو تمہیں بتارہے ہیں کہ وہاں ہے وہاں ہے اور لینے کے لائق ہے۔اس مضمون کو سب سے زیادہ شان کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اپنے رب سے سیکھا اور سب سے زیادہ صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ اسے دوسروں کے سامنے پیش فرمایا۔یہ وہ مضمون ہے جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے جن کا ترجمہ ابھی میں نے آپ کے سامنے رکھا۔فرمایا وَالتَّجْمِ اِذَا هَوى - بلند مرتبہ ستارہ شریا ایک وقت زمین کی طرف جھکے گا اور ایک بات کی گواہی دے گا اور وہ یہ ہے کہ یہ حمد مصطفی ﷺ ایسا نہیں جو کبھی بھی رستہ کھو دے۔اگر اس کے جانے کے چودہ سوسال بعد بھی یہ واقعہ رونما ہوا تو چودہ سو سالہ تاریخ پر وہ شریا گواہ بن کر اترے گا اور آئندہ کے زمانہ پر بھی یہ گواہی دے گا کہ جس پاک رسول نے آج تک رستہ نہیں کھویا۔جس کی تعلیم آج بھی مستقیم ہے وہ کل بھی اسی سمت میں ہمیشہ روانہ رہے گا اور جس طرح پہلوں کے لئے وہ ایک سچا اور قابل اعتما در اہنما تھا کہ جس کی باتوں میں کوئی لغزش، کوئی غلطی نہیں اسی طرح آئندہ زمانوں میں بھی ایسا ہوگا۔اس پیشگوئی کو جو قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی ایک حدیث کی روشنی صلى الله میں جب ہم پڑھتے ہیں تو ایک بہت ہی لطیف مضمون آنکھوں کے سامنے اُبھرتا ہے۔آنحضوری نے فرمایا کہ لو كان الايمان معلقاً عند الثريا لنا له رجل أورجال من هولاء (بخارى كتاب التفسیر حدیث نمبر: ۳۵۱۸) یہ مضمون اس وقت بیان فرمایا جب یہ گفتگو تھی کہ آنحضور ﷺ اگر دوبارہ آئیں گے جیسا کہ سورہ جمعہ میں بیان فرمایا گیا ہے تو کیسے آئیں گے ؟ کیوں آئیں گے ؟ کیا مقاصد ہوں گے ؟ تو فرمایا کہ اس واپسی کے مضمون کو نہایت ہی لطیف رنگ میں ثریا کے ساتھ باندھ دیافرمایا ثریا سے تعلیم دوبارہ نیچے اُترے گی۔ثریا تک چلی جائے گی اور پھر دوبارہ نیچے اُترے گی اور ایک شخص ثریا تک بلند ہو گا اور اس تعلیم کو واپس لے کر آئے گا۔ثریا کے نیچے اترنے کے یہ معنی ہیں اگر یہ معنی نہیں ہیں تو ثریا ستارہ تو نیچے اتر نہیں سکتا۔اگر وہ اپنا محور چھوڑ کر زمین کی طرف جھکے گا تو فائدے کی بجائے ایسا نقصان پہنچا دے کہ اس کا پھر کوئی ازالہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ثریا کا اپنے محور کو چھوڑ