خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 412

خطبات طاہر جلدا 412 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء اس کی صداقت میں دل بے اختیار اچھل اچھل کر گواہی دیتا ہے۔کسی جانور کے متعلق قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے اس پر وحی فرمائی سوائے شہد کی مکھی کے اور شہد کی مکھی کی صلاحیتیں واقعۂ وحی سے سجائی گئی ہیں اور وحی سے مزین ہوئی ہیں اور وحی سے ترتیب پاگئی ہیں ورنہ ایک مکھی ویسی ہی مکھی تو ہے جیسی گندگی پر گرنے والی لکھی ہے۔کوئی نمایاں فرق نہیں ہے۔ایک ہے جو بیماریاں پھیلاتی اور گندگی پر منہ مارتی ہے اور ایک ہے جو دنیا میں شفاء پھیلاتی اور نہایت پاکیزہ خوراک کے سوا کسی اور خوراک کو پسند نہیں کرتی اور اس کے اندر جو صلاحیتیں ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا وہ ایسی عظیم الشان ہیں کہ انسانوں میں سے بھی بلند پایا قلبی اور ذہنی صلاحیتوں کے مالک اس ناچ کی زبان کو نہ پوری طرح سمجھ سکتے ہیں نہ اس زبان کو پوری طرح دوسروں کو سمجھا سکتے ہیں۔آج اگر ان کو کہا جائے کہ باہر سے جائزہ لے کر واپس آؤ اور ہر ایک یہ رپورٹ پیش کرے کہ کون سی چیز کتنے فاصلہ پر ہے اور اس کو ایک ناچ کے ذریعے تفصیل کے ساتھ بیان کرو تو بہت مشکل مضمون ہے۔انسان حیوان ناطق ہے اور اپنی نطق کو استعمال کر کے بعض اشاروں کی زبانیں بنا سکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن اگر ایسی زبان نہ بنائی گئی ہو اور انسانوں پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ از خود ایک ناچ ایجاد کریں ، از خود وہ اس کی زبان بنا ئیں اور پھر بغیر دوسروں کو بتائے اس سے یہ توقع رکھیں کہ وہ ان کی ہر بات کو صحیح سمجھے گا، یہ بات ناممکن ہے لیکن شہد کی مکھی میں یہ بات پوری ہے۔چنانچہ وہ پہلے مقصد کو پاتی ہے، اس کو حاصل کرتی ہے، اس کے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں سے واقف ہوتی ہے اور اس راہ کے خطرات سے آگاہ ہوتی ہے اور پھر اپنے چھتے کی طرف لوٹتی ہے اور پھر ان اطلاعات کو بتا کر کہتی ہے کہ آؤ میرے پیچھے آؤ۔شہد کی مکھیاں ان ساری اطلاع دینے والوں کی اطلاع کا موازنہ کرتی ہیں ملکہ ہر چیز کو ذہن میں محفوظ رکھتی ہے اور بالاآخر اس ایک سمت میں روانہ ہو جاتی ہے جو اس کے نزدیک سب سمتوں میں سے سب سے بہتر ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ہے ان انبیاء کے سرفہرست ہیں ، ان انبیاء کے سردار ہیں جن سب انبیاء کو خدا تعالیٰ نے ایسی ہی صفات سے مرصع فرمایا اور وحی کی طاقت سے ایسا ہوا۔ان کے سوا انسانوں میں اور کوئی نہیں ہے جو ان خوبیوں سے پوری طرح آراستہ اور مزین ہو جن کا میں ذکر کر رہا ہوں پورے یقین اور سچائی کے ساتھ ایک اعلیٰ مقصد کو حاصل کرتے ہیں ، پوری تحقیق کرتے ہیں، اس