خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 411

خطبات طاہر جلدا 411 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۹۲ء مکھی کے اندر جو چھوٹا سا دماغ ہے وہ کتنے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیتا ہے الہی کارناموں میں سے وہ ایک ہے جس کا میں نے ذکر کیا کہ بعض لوگ یا بعض مخلوقات یہ صلاحیت رکھتی ہیں کہ پہلے جگہ کو دریافت کرتی ہیں ، اعلیٰ مقصد کو خود حاصل کرتی ہیں پھر دعوت دیتی ہیں اس کے بغیر نہیں۔چنانچہ شہد کی مکھی میں یہ خوبی پائی جاتی ہے۔شہد کی مکھیوں میں سے بعض اس مقصد کے لئے خصوصی طور پر فطر تا تیار فرمائی گئی ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمائی اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر بعض غیر معمولی صلاحیتیں ودیعت فرما دی ہیں اور اس کا نام وحی ہے یعنی شہد کی مکھی کے تعلق میں اس کو وحی کہا جائے گا۔شہد کی مکھیوں کا ایک حصہ ایسا ہے کہ جب مکھیوں نے اُڑ کر کہیں جانا ہو ، جب ایک چھتا بے کار ہو چکا ہو اور نئے چھتے کی تلاش ہو تو یہ کھیاں اُڑ کر پہلے چاروں سمت میں پہلے رائیکی کرتی ہیں یعنی جائزہ لیتی ہیں کہ ہر پہلو سے سب سے اچھا چھتا کون سا ہوسکتا ہے اور ہر ایک مکھی ہر سمت میں اُڑ پنے اپنے جائزے کی رپورٹ لے کر واپس اپنے چھتے تک پہنچتی ہے اور پھر یہ بھی معلوم کرتی ہے کہ رس والے پھول قریب ترین کہاں اور کتنے پائے جاتے ہیں۔ان تمام معلومات سے پوری طرح مرقع ہو کر وہ جب واپس پہنچتی ہیں تو ایک قسم کا ناچ ناچتی ہے، وہ ایک ایسا ناچ ہے جس پر سائنسدان ابھی تک تحقیق کر رہے ہیں اور ابھی تک مکمل طور پر اس کی زبان کو سمجھ نہیں سکے کہ وہ کیسے یہ ناچ ناچتی ہیں، کیسے اُس زبان کو دوسری لکھیاں سمجھتی ہیں لیکن اس حد تک اس مضمون پر ان کی رسائی ہو چکی ہے کہ قطعی شواہد کے طور پر اس بات کو پیش کر سکتے ہیں کہ اس ناچ میں اشاروں کی ایک زبان ہے جو معین طور پر شہد کی مکھیوں کی ملکہ اور اس کی ساتھیوں کو یہ اطلاع دیتی ہے کہ ہم نے ایک جگہ دریافت کی ہے وہ جگہ یہاں سے اتنے فاصلہ پر ہے، اس کا زاویہ یہ ہے اور اس جگہ کی نوعیت یہ ہے اور دوسری مکھی دوسری طرف سے اڑ کر آئے گی اور وہ یہ رپورٹ پیش کرے گی کہ ہم نے بھی ایک جگہ دیکھی ہے اور وہ اتنے فاصلہ پر ہے اور اس میں یہ یہ خوبیاں ہیں اور یہ یہ سہولتیں مہیا ہیں پھر بھی ابھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ اور مکھیاں آئیں گی۔ہر لکھی اپنی اپنی رپورٹ ناچ کی شکل میں پیش کرتی ہے۔اس ناچ کی تصویریں، اس کے زاویے مختلف شکلوں میں محفوظ کئے گئے ہیں اور وہ مضامین جن میں اس ناچ کی تصویر میں ملتی ہیں ان کو پڑھتے ہوئے انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے اور کلام الہی کی تائید میں