خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 410

خطبات طاہر جلدا 410 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۹۲ء بلندی تک اُٹھنا لازم تھا۔جب تک یہ اس بلندی تک رفعت نہ پاتا اس خدا کو پانہیں سکتا تھا جو خدا افق اعلیٰ پر جلوہ گر تھا۔پھر فرمایا ثُمَّ دَنَا فَتَدَتی پھر یہ قریب ہوا اور پھر یہ نیچے جھکا فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی اس طرح وہ دو کمانوں کا درمیانی و تر بن گیا۔اس مضمون سے متعلق مزید کچھ بیان کرنے سے پہلے میں آپ کو بتا تا ہوں کہ جیسا کہ جانوروں میں بھی خدا تعالیٰ نے انسانوں کے لئے بہت سی اچھی مثالیں رکھیں ہیں اور جانوروں میں بھی بیان کردہ پہلی دو صلاحیتیں موجود ہیں۔چنانچہ آپ لوگوں میں سے جن لوگوں نے زندگی سے متعلق فلمیں دیکھی ہوں یعنی محققین نے زندگی کی بقاء سے متعلق بہت محنت کر کے جو فلمیں تیار کی ہیں ان میں وہ بعض دفعہ ایسے مناظر دکھاتے ہیں کہ لاکھوں پر مبنی بڑے بڑے ریوڑ ہیں گلے ہیں جن میں ہر قسم کے مویشی اور حیوانات وغیرہ بھی شامل ہو جاتے ہیں اور پانی کی کمی کی وجہ سے سخت بے چین ہوتے ہیں ان کو اپنے میں سے ہی بعض ایسے صاحب صلاحیت جانور راہنمائی کرتے ہوئے ایک سمت میں لے جاتے ہیں جس سمت میں ان کو پانی کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور باقی سب اندھا دھند اُن کی پیروی کرتے چلے جاتے ہیں۔بعض دفعہ یہ ایک اتنا بڑا جلوس بن جا تا ہے کہ تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے بھی گھنٹوں میں اس کا آخری کنارا پہنچتا ہے اور آگے لگے ہوئے کچھ جانور ہیں جن پر اُن کو پورا اعتماد ہوتا ہے اور یہ اعتماد کبھی جھوٹا نہیں نکلا یہ الگ بات ہے کہ پانی تک پہنچنے سے پہلے یہ سارے جانور پیاس اور بھوک سے مر جائیں لیکن وہ سمت کبھی غلط نہیں ہوتی جس سمت کی طرف وہ حرکت کر رہے ہوتے ہیں اگر کہیں پانی میسر آسکتا ہے تو وہاں آسکتا ہے اس کے سوا اور کسی سمت میں اس سے قریب تر پانی میسر نہیں آسکتا۔تو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں میں بھی ہمارے لئے کیسی اعلیٰ اور پاکیزہ مثال رکھی ہے کہ یہ وہ بظاہر بے وقوف اور بے سمجھ حیوانات ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ان کی فطرت میں جو بعض خوبیاں ودیعت فرما دی ہیں ان میں وہ بنی نوع انسان کے لئے مثال بن جاتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی مثال دی ہے اور شہد کی مکھی کو خاص طور پر اس رنگ میں پیش فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر وحی فرمائی۔جس کا مطلب ہے کہ جانوروں میں سے یہ سب سے زیادہ غیر معمولی روحانی صلاحیتیں رکھنے والی چیز ہے جس کے متعلق اگر تحقیق کی جائے دن بدن اعلیٰ سے اعلیٰ نئے مضامین روشن ہوتے چلے جائیں گے اور عقل دنگ ہوتی چلی جائے گی کہ کس طرح اس چھوٹی سی