خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 36

خطبات طاہر جلدا 36 96 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۹۲ء استقامت پیدا ہوگی۔یہ نہیں کہ آئے تعلق باندھا اور پھر رفتہ رفتہ وہ تعلق بھول گیا بلکہ مستقل مستحکم تعلق پیدا ہو گا تو اس طرح قادیان کی احمدی آبادی بڑھنے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی مرکزیت کے مرتبے اور مقام میں رفعت پیدا ہوگی اور ایک وزن پیدا ہو جائے گا۔اس کے نتیجہ میں اور بھی زیادہ علاقہ ایسی نظروں سے جماعت کو دیکھے گا کہ جیسے ہر وقت منتظر ہیں کہ کب آؤ اور برکتیں واپس لے کر آؤ یہ جو احساس ہے یہ اتنا سنجیدہ احساس ہے اور اس تیزی سے وہاں ترقی کی ہے کہ ایک سکھ لیڈر اپنے ساتھیوں کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے کافی بڑا وفد لے کر آئے تھے انہوں نے کہا کہ جب آپ لوگ گئے تھے اور ہم یہاں آکر آباد ہوئے تھے تو لوگ ہمیں کہتے تھے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیاں ہیں کہ ہم واپس آئیں گے تو ہم آپس میں مذاق کیا کرتے تھے۔باتیں تو ہم سن لیتے تھے لیکن باہر جا کر آپس میں مذاق کیا کرتے تھے کہ دیکھو جی! کیسی بچگانہ باتیں ہیں۔ایک دفعہ گیا ہوا کب واپس آتا ہے اور کیسے آسکتا ہے۔ہم تو اب یہاں آباد ہو گئے۔کہتے ہیں لیکن اب جلسہ کے بعد ہم یہ باتیں کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب کی ساری باتیں کچی تھیں اور ان لوگوں نے آنا ہی آنا ہے اور قادیان کو چھوڑنے والے نہیں اور بھولنے والے نہیں۔انہوں نے لازماً آنا ہے اور وہ پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی۔تو دیکھیں خدا تعالیٰ نے آنا فانا کیسی فضا بدلی ہے اور یہ جو باقی رہنے والی برکتیں ہیں ان میں سے یہ برکتیں ہیں جن کو سنبھالنا اور ان کی مزید افزائش کرنا جماعت احمدیہ کے نیک اعمال سے تعلق رکھتا ہے۔محض نیک خواہشات سے تعلق نہیں رکھتا۔پس میں جو نصیحت کر رہا ہوں اس کو سنجیدگی سے قبول کریں۔جس کو قادیان میں کسی قسم کی صنعت قائم کرنے یا قادیان سے تجارت کرنے کی توفیق ہو اس کو اس میں ضرور کوشش کرنی چاہئے۔قادیان کے درویشوں کو میں نے یہ نصیحت کی ہے کہ کشمیر وغیرہ سے اور دوسرے ارد گرد کے علاقوں سے جو چیزیں باہر ایکسپورٹ ہوتی ہیں تم لوگ مل کر چھوٹی چھوٹی کمپنیاں بناؤ۔ان میں حصہ لو۔باہر کے احمدی اس معاملہ میں تمہارے ساتھ تعاون کریں گے۔ہمیں لکھو کیا کچھ کر سکتے ہو۔باہر سے ہم ایسے احمدیوں سے رابطہ کریں گے جودوسری طرف سے ان کے مددگار ثابت ہوں۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے تجارتیں چمکیں گی اور وہاں لوگوں کے لئے رزق کے اچھے انتظام پیدا ہوں گے بہت سے احمدیوں کو Employment ملے گی اور یہ نہیں ہو گا کہ بچے پہلے اور پھر رزق کی