خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 403
خطبات طاہر جلدا 403 خطبه جمعه ۱۲ جون ۱۹۹۲ء صُمَّا وَ عُمْيَانًا وہ اندھوں اور بہروں کی طرح ان سے سلوک نہیں کرتے کہ سنی ان سنی کر دیں۔اس آیت پر پہنچ کر مجھےسمجھ آئی کہ میں بھی تو آیات پڑھ کر ہی سمجھا تا ہوں ، اپنی طرف سے تو کوئی بات نہیں کہتا تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس کا ذکر فرما دیا تھا کہ تم لاکھ آیتیں پڑھو جو لوگ خود آیتوں سے صاحب بصیرت والا سلوک نہیں کرتے اور ایسے لوگوں والا سلوک نہیں کرتے جو پوری توجہ سے سُنتے ہیں ان کے لئے یہ آیات کچھ بھی فائدہ نہیں دیں گی ، بے کارجائیں گی۔وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا یہ سب کرنے والے لوگ وہ ہیں جن کی یہ دُعا قبول ہوتی ہے کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا کہ اے خدا! ہمارے لئے بطور رحمت نازل فرما مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا ہمارے جوڑوں سے اور ہماری اولاد سے قُرَّةَ أَعْيُنِ آنکھوں کی ٹھنڈک وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اور ہمیں ایسی اولاد عطا فرما اور اولاد در اولاد عطا فرما کہ ہم متقیوں کے امام بننے والے ہوں۔تو اگر دل میں تقویٰ کی قیمت ہے تو پھر ہی انسان متقیوں کا امام بننے کی دُعا مانگتا ہے اور جو گھر اپنی اولاد میں تقویٰ پیدا نہیں کر رہا اور اس کی لذت تقویٰ کے سوا اور باتوں میں ہے تو اس کی دُعا کیسے قبول ہوسکتی ہے۔جن کے گھروں کی لذتیں دنیا داریوں میں، دنیاوی فوائد حاصل کرنے میں ہیں ان کی شادیاں اسی طرح دنیا کی خاطر ہوتی ہیں اور ایسی شادیوں کے نتیجہ میں یہ دعا بالکل ہی بے حمل اور تمسخر کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے کوئی بھی اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تقویٰ سے کام لیں ، اپنے معاشرے کو درست کریں، یہ جو ایک دوسرے سے شادی کی دھو کے بازیاں ہیں یا حرص و ہوا میں شادی کرنا جو ہے اس کے بہت بڑے نقصانات ہیں اس کے نتیجہ میں آپ خدا کی رحمت سے مایوس ہو جاتے ہیں اور آپ کو علم بھی نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو جیسا کہ نصیحتیں کی گئی ہیں ان لوگوں میں شامل ہو جن کا ذکر ہے کہ وہ تو بہ کرتے ہیں اور بچی تو بہ کرتے ہیں اللہ کی طرف جھکتے ہیں اور جس طرح بچہ ماں کی گود میں پناہ مانگتا ہے اس طرح وہ تو بہ کرتے ہوئے اس کی طرف لپکتے ہیں پھر ان میں ایک وقار پیدا ہو جاتا ہے پھر وہ جھوٹ سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کی آیات اُن پر پڑھی جاتی ہیں تو احترام سے ان کو سنتے ہیں، وقار کے ساتھ ان کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔جب یہ دُعا کرتے ہیں تو اس دُعا کا لازماً نتیجہ نکلتا ہے اور وہ نتیجہ دہرا ہے۔اس دنیا کی