خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 401

خطبات طاہر جلدا 401 خطبہ جمعہ ۱۲ جون ۱۹۹۲ء کوئی گوری نہ گھر میں اُٹھا لاتا۔اس لئے مجھے تمہاری کیا ضرورت تھی؟ تم تو ہو ہی بد بخت اور بدنصیب۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص اگر ایک گھر کی زندگی برباد کرتا ہے تو وہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے جنت عطا کرے گا۔ایسے لوگوں کے لئے بسا اوقات اس دنیا میں بھی جہنم کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ بہت بڑا گناہ ہے۔اول تو یہ کہ انسان خود اپنی شکل وصورت نہیں بنا سکتا۔یہ بھی درست ہے کہ طبیعت پر بھی جبر نہیں کر سکتا اگر ایک شخص مزاج کا حسن پرست ہے یا حسن پرست نہ سہی اس کے مزاج میں کم سے کم بعض ایسی لطافتیں پائی جاتی ہیں بعض قسم کی شکلوں سے چاہیں بھی تو گزارہ نہیں کر سکتا۔یہ ایسی چیز نہیں ہے جو شادی سے پہلے اس کے علم میں نہ ہو۔اپنے آپ کو وہ جانتا ہے جس سے شادی کرنا چاہتا ہے اس کو دیکھا بھالا ہے جب وہ فیصلہ کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا فرض ہو جاتا ہے کہ جس قسم کی بھی چیز ہے لازماً اس کے ساتھ آخر تک گزارہ کرے اور اگر نہیں کر سکتا تو عزت واحترام کے ساتھ پوری کوشش کے بعد نا کامی دیکھتے ہوئے اسے اس طرح رُخصت کرے کہ اس کی عزت پر ، اس کے ماں باپ کی عزت پر حرف نہ آئے لیکن یہ تو چند کوڑیاں کمانے کے لئے گھر سے نکلتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ چاہے خاندانوں کے سکون برباد ہو جائیں انہوں نے کسی قوم میں Asylum ضرور لینا ہے خواہ شادی کے بہانے ملے یا کسی اور بہانے۔یہ اگر اس وہم میں مبتلاء ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت ملے گی جزا ملے گی ان کی دُعائیں قبول ہوں گی ان کی آئندہ جب بھی شادی کریں گے بیویوں کی طرف سے یا اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک ملے گی تو یہ سب فرضی قصے ہیں جھوٹ ہے۔ایسے لوگوں کی دُعائیں مقبول نہیں ہوتیں جو دعاؤں کے آداب سے ناواقف ہیں ان دعاؤں کے جو تقاضے ہیں ان کے ساتھ جولو از مات ہیں ان سے بے پرواہی کرتے ہیں۔اس دعا کے لوازمات ہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں اور وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جس شخص نے ان لوازمات کا جوان دُعاؤں کے گرد لپیٹے ہوئے ہیں جو ان کا موسم بنارہے ہیں اس لحاظ سے کیا لازماً اس کی یہ دعا قبول ہوگی؟ یہ ہو نہیں سکتا کہ ان تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا حق ادا کرتے ہوئے ان لوازمات کو پورا کرتے ہوئے کوئی دعا مانگے اور خدا اس کو رد کر دے۔جن کی بھی مقبول ہوئی ہیں اسی طرح مقبول ہوئی ہیں اور جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا وہ فرضی جنت میں ہے کہ میری دُعا قبول ہو رہی ہے یا میں نے دُعا کا حق ادا کر لیا۔