خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 396
خطبات طاہر جلد ۱۱ 396 خطبہ جمعہ ۱۲ جون ۱۹۹۲ء سے متعلق نصیحتیں کرتارہا ہوں اور اگر چہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت سے مخلصین ہیں جنہوں نے ان نصیحتوں کی طرف کان دھرے اور اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ ان باتوں کو قبول کر کے اپنی گھریلو زندگی کو جنت نشان بنانے کی کوشش کی اور مختلف خطوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے فضل سے مردوں نے بھی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کی اور عورتوں نے بھی ایسا ہی کیا لیکن اس کے باوجود آج بھی ایسے ہی تکلیف دہ واقعات نظروں کے سامنے آتے رہتے ہیں جیسے کل آیا کرتے تھے۔تعداد میں کچھ کمی ہو گئی ہوگی، کچھ لوگوں نے اصلاح کرلی ہوگی اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن احمد یوں میں اب بھی ایسے خاوندوں کی بھی اور ایسی بیویوں کی بھی ایک تعداد موجود ہے جن کی طرز عمل گھروں کو جنت بنانے والی نہیں بلکہ جہنم بنانے والی ہے اور جیسا کہ میں نے اس سے پہلے اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ عائلی زندگی کی خرابیاں ساری قوم پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ایک ہی نسل پر نہیں بلکہ آئندہ کئی نسلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس بات کو معمولی بات نہ سمجھو گھر ایک ایسی چیز ہے جس کی طرف انسان جب لوٹ کر آتا ہے اگر وہ مرد ہے تو وہ بھی اس تصور سے گھر کی طرف لوٹتا ہے کہ وہاں جا کر تسکین ملے گی دنیا کے جھنجوں میں پڑنے سے جو تھکاوٹ ہوگئی ہے وہ دور ہوگی اور راحت اور تسکین کے سامان میسر آئیں گے۔عورت بھی اسی خیال سے گھر کی طرف لوٹتی ہے یا اسی خیال سے اس کو بھی گھر کی طرف لوٹنا چاہئے مگر ایسے گھر جہاں میاں بیوی میں جھگڑے چلتے ہوں، ایسے گھر جو سیاست کا شکار ہوں جہاں صرف میاں بیوی کے آپس کے اختلاف ہی کارفرما نہ ہوں بلکہ ان کے رشتہ داروں کی دخل اندازیوں کی وجہ سے کئی قسم کی سیاستیں کھیلی جاتی ہوں ایسے گھر ہمیشہ جہنم کا نمونہ بنے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بہت گہرے اور وسیع نقصانات ہوئے ہیں۔میں دوبارہ ان کا ذکر نہیں کرتا کیونکہ اس سے پہلے تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں ، ایک گھر ہی نہیں اُجڑ تا بلکہ نسلیں اُجڑ جاتی ہیں، ارد گرد کے رہنے والوں پر بڑا اثر پڑتا ہے، معاشرے پر بداثرات پڑتے ہیں اور کئی قسم کی بد عادتیں قوم میں پھیل جاتی ہیں، ایسے لوگوں کے اندر کوئی کشش نہیں رہتی جن کی عائلی زندگیاں جہنم کا نمونہ ہوں اور لوگ قریب آنے کی بجائے ان سے دور بھاگتے ہیں۔میں نے یہ نصیحت بھی کی کہ اگر اصلاح آپ کے بس میں نہیں ہے تو قرآن کریم نے ایک دعا سکھائی ہے جو ایسی مؤثر ہے کہ جہاں جہاں عائلی خرابیوں کے اثرات پہنچتے ہیں وہاں وہاں اس دُعا