خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 381

خطبات طاہر جلد ۱۱ 381 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۹۲ء غصے ہوتے ہیں تو بالعموم جتنی کسی کو تکلیف پہنچے جب تک اس سے زیادہ تکلیف نہ پہنچا لیں دل ٹھنڈا نہیں ہوا کرتا اور وہ بہت خوش نصیب لوگ ہیں مگر بہت کم جو انتقام میں انصاف کو پیش نظر رکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔تو پہلا رستہ اگر کسی نے اختیار کرنا ہے تو وہ ایک حد تک تو جائز ہے لیکن اگر ایک دو قدم بھی اس سے آگے نکل جائے تو وہی انتقام اس کے اوپر اُلٹ پڑے گا اور وہ خدا کی ناراضگی کا موجب بن جائے گا۔دوسرا پہلو وہ ہے جو سراسر نفع کا پہلو ہے کوئی نقصان کا سودا نہیں کوئی نقصان کا خطرہ ہی نہیں۔تمام تر فائدے ہی فائدے ہیں بھائی کی محبت جیتیں گے اور جو اس کا لطف ہے وہ ایسا دائگی لطف ہے جو انتقام کا لطف نہیں ہے اور اگر وہ محبت جیتنے میں نا کام بھی ہو جائیں تو خدا کی محبت لازماً جیتیں گے اور اس کے فضل کئی طرح سے نازل ہوتے ہیں جماعت میں بہت برکت پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی طور پر فضل نازل ہوتے ہیں صرف انفرادی طور پر ہی ایک انسان کو فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ ساری جماعت کو اس سے بہت فائدہ پہنچتا ہے۔پس میں نے آپ کے سامنے یہ جو دو مثالیں رکھی ہیں ان میں ایک بڑا عنصر یہی تھا کہ پہلے اگر اختلافات پائے جاتے تھے اور خصوصیت سے مربی سے یا مقرر کردہ امیر سے کچھ شکوے تھے تو میرے سمجھانے کے نتیجہ میں ان شریف ، نیک نفس احمدیوں نے اپنے پرانے کردار کو یکسر بدل ڈالا اور خدا کی خاطر شیر وشکر ہو گئے اور اب اس کا خودالطف اُٹھارہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت نشو و نما پانے والی جماعتیں بن چکی ہیں۔سپین کے سلسلہ میں یہ بتانا ضروری ہے کہ میں ویسے تو وہاں بہت دیر سے نہیں گیا تھا اور جانا ہی تھا لیکن فوری بہانہ Expo بن گیا۔سپین میں Expo کا انعقاد ہوا ہے یعنی ساری دنیا سے مختلف قسم کی انڈسٹریل اور دیگر نمائش وہاں لگائی گئی ہیں اس Expo میں جماعت احمدیہ کو بھی چھوٹا سا سٹال لگانے کی توفیق ملی اور وہ سٹال سب دوسرے سٹالوں سے مختلف اور منفرد تھا ایک تو اس لحاظ سے مختلف اور منفرد تھا کہ سب سے چھوٹا اور غریبانہ سٹال وہی تھا اس سے چھوٹا کوئی اور سٹال آپ کو وہاں دکھائی نہیں دے گا۔آئس کریم بیچنے والے چھوٹے چھوٹے کھوکھے بھی اس سے بڑے تھے اور معمولی معمولی ممالک کے جو سٹال تھے وہ بھی مقابلہ بہت بڑے اور عظیم الشان دکھائی دیتے تھے لیکن جو بڑے ممالک ہیں انہوں نے تو اربوں روپیہ وہاں خرچ کیا۔بڑے بڑے محلات تعمیر کئے اور اپنی نمائش پر اتنا غیر معمولی زر کثیر خرچ کیا ہے کہ اس سے انسان مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔بڑی بڑی حکومتوں