خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 382 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 382

خطبات طاہر جلد ۱۱ 382 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۹۲ء میں سے امریکہ کا سٹال تھا، کینیڈا کا سٹال تھا، جاپان کا سٹال تھا، چین کا سٹال تھا۔وہ سارے دیکھنے والے تھے لیکن وہ سارے سٹال ایسے تھے جن کا لطف دنیا کے لطفوں سے تعلق رکھتا تھا اور دائمی نہیں تھا۔ایک انسان جاتا ہے اور ان چیزوں کو دیکھتا ہے لطف اندوز ہوتا ہے اور کچھ دیر کے بعد وہ بھول جاتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کے سٹال میں ابدی اور دائمی لطف اور سکینت کے سامان تھے وہ لوگ جن کو وہاں آنے کی توفیق ملی جب انہوں نے تمام دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم دیکھے اور ایک سو سے زائد زبانوں میں انہوں نے قرآن کریم کی منتخب آیات کے تراجم دیکھیے احادیث کے تراجم دیکھے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کے تراجم دیکھے تو ان کے اندر ایک عجیب غیر معمولی شوق پیدا ہوا۔ان کی آنکھوں میں چمک آئی انہوں نے کہا کہ ہماری زبان بتائیں وہ بھی ہے کہ نہیں جب وہ زبان ان کو دکھائی جاتی تھی تو عجیب فرط طرب سے یوں لگتا تھا جیسے ایک بلب اچا نک روشن ہو جائے اور بڑی گہری دلچسپی وہ لینے لگ جاتے تھے۔اس کے نتیجہ میں بہت سی کتابیں خریدی بھی گئیں کچھ لٹر پچر مفت بھی تقسیم کیا گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پوری دنیا میں اسلام کا نور پھیلانے کا جو موقع جماعت احمدیہ کو وہاں ملا ہے یہ بہت بڑی سعادت ہے اللہ تعالیٰ اس میں بہت برکت ڈالے۔وہاں جا کر سٹال دیکھنے کا اور نمائش دیکھنے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ سٹال کے منتظمین کے ساتھ اور سپین کی جماعت کے ساتھ اس سٹال سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔عام طور پر گزرتے گزرتے کوئی شخص اتفاقا دیکھتا اور اگر اس کے پاس وقت ہوتا تو وہ اندر آجاتا تھا حالانکہ یورپ سے اور دیگر ممالک سے لوگ اور خود پین کے باشندے بھی اس کثرت سے وہاں آرہے ہیں کہ گزشتہ دو مہینے کے اندر اندر ساٹھ لاکھ آدمی وہ نمائش دیکھ چکا ہے اور ساٹھ لاکھ میں سے کئی ایسے ہیں جو کئی کئی دن آتے ہیں کیونکہ بہت بڑی نمائش ہے تو اس میں سے ابھی جماعت کا حصہ جتنا چھوٹا سٹال ہے اس کی نسبت سے بھی نہیں ملا یعنی آنے والوں کے مقابلہ پر جو نمائش پر آتے ہیں بہت کم لوگ اس سٹال پر آسکے ہیں یا استفادہ کر سکے ہیں چنانچہ میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ کس طرح خوبصورت اشتہار بنائیں اور اس میں یہی بات لکھیں کہ دنیا کے لطف لے رہے ہو ایک لطف یہ بھی لو جو کبھی نہیں مٹے گا، ایک ایسی خوشبو بھی لگاؤ جس کو کوئی دھوبی اور کوئی لا نڈری بھی دھو کر اُسے زائل نہیں