خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 370
خطبات طاہر جلد ۱۱ 370 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء اللہ تعالیٰ نے بڑا مرتبہ عطا کیا جب اس سے پوچھا جائے کہ بتاؤ کس چیز نے تمہیں اتنی لمبی اور اتنی مسلسل ایک ہی سمت میں جاری وساری محنت پر آمادہ کیا تو وہ سوچ کر تمہیں یہ بتائے گا کہ فلاں وقت یہ واقعہ ہوا تھا، میں بچہ تھایا میری اتنی عمر تھی ، میں نے یہ نظارہ دیکھا تھا اور وہ پیغام ایسا میرے دل پر نقش ہوا کہ پتھر کی لکیر بن گیا اور ہمیشہ اس نے مجھے آئندہ میرے نشو و نما کے زمانے میں میرا مقصد یاد کرایا، میرا رخ معین کیا اور مجھے اس محنت پر آمادہ کرتارہا اس کی طاقت بخشتا رہا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل کے ساتھ اس مقام پر پہنچایا ہے۔پس ایسے دل پہلے بنا ئیں جوان تحریکات کو جو وقتا فوقتا آپ کے دل میں ضرور اٹھتی ہیں اور ہر مبلغ کے دل میں اٹھتی ہیں، ان کو مستقل کر دے، ان کو دائمی بنادے ، اس بات کی ضمانت دے کہ یہ نیک تحریکات جو آپ کے دل میں اٹھتی ہیں وہ ضائع نہیں جائیں گی۔چنانچہ فرشتوں کے متعلق آنحضرت مے نے جو مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اُن میں ایک یہ بات بھی ہے کہ فرشتے جب نیکی کی تحریک کرتے ہیں تو بعض دل ہیں جو ان کو قبول کر لیتے ہیں اور پھر ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔بعض دل ہیں جو متاثر ہوتے ہیں اور پھر ان کو بھول جاتے ہیں۔اور وہ وقتی طور پر ایک لذت کو محسوس کرتے ہیں لیکن وہ دائمی لذت نہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیکی کی طرف کئی ٹھوس اقدام کرنے کی توفیق بخشی ہے وہاں اس ضروری قدم کی طرف بھی آپ متوجہ ہوں گے۔آپ میں سے ہر ایک خود اپنی تربیت کی کوشش کرے گا اور اپنی تربیت کی کوشش میں وہ جماعت سے جس حد تک مدد ممکن ہے طلب کرے گا۔یہ نہیں ہو گا کہ مربی پیچھے پھر تار ہے کہ تم اس سے یہ بات حاصل کرو، وہ بات حاصل کرو بلکہ شاگر د مربی کے پیچھے پھرے اور کہے مجھے وقت دو میں نے یہ بھی تم سے سیکھنا ہے اور یہ بھی سیکھنا ہے۔چنانچہ واقعہ ایک زمانہ تھا جب پنجاب میں خصوصیت کے ساتھ یہ رواج تھا کہ لوگ مولویوں کی تلاش میں نکلا کرتے تھے۔اب حالات بدل گئے ہیں ، اب بیچارہ مولوی یا مدرس اپنے شاگردوں کی تلاش میں نکلتا ہے کہ کوئی آئے اور میری بات سنے۔نصیحت کرنے والا ڈھونڈتا ہے ایسے دلوں کو جو اس کی نصیحت کی طرف متوجہ ہوں لیکن ایک نیک دور ایسا بھی تھا جبکہ طالب علم اساتذہ کی تلاش میں نکلا کرتے تھے اور اب بھی ترقی یافتہ ملکوں میں ایسے ہی ہوتا ہے۔جنہوں نے علوم وفنون