خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 367
خطبات طاہر جلدا 367 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء کھینچنے والا۔جس کا عمل نیک ہو اگر عمل نیک نہیں ہے تو باتیں خواہ کتنی پیاری ہوں ساری ہوا میں ہر طرف اُڑ کر بکھر جائیں گی اور ان کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا۔وہ کسی زمین میں پیوست نہیں ہوں گی۔وہ کوئی ایسا بیج نہیں بنیں گی جن سے آگے نو نہال درخت پھوٹیں اور ان درختوں کو پھر پھل لگیں۔اس لئے تم خواہ خواہ اپنی باتوں کو ضائع نہ کرو بلکہ اکٹھے رہو، پیار اور محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر رہو، ایک امیر کی اطاعت میں سر تسلیم خم کرو اور اگر اس کی کمزوریوں سے درگزر نہیں کر سکتے۔تو اس کی معرفت مجھے لکھو، میں اسے سمجھاؤں گا چنانچہ اس کے نتیجے میں مجھے بہت سے لوگوں نے بعض شکایتیں لکھیں تحقیق ہوئی اور کئی دفعہ بچی نکلی۔اس پر مجھے کوئی شکوہ نہیں ہوا۔میں نے کہا آپ کو یہ حق دیا تھا آپ نے اس کو استعمال کیا ہے چنانچہ اس شخص کو جس کے خلاف وہ درست رپورٹ تھی اس کو بھی سمجھایا گیا۔بڑی سرزنش کی گئی لیکن اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ جماعت کے اندر سعادت کا مادہ پایا جاتا تھا۔کوئی ایک شخص بھی خدا کے فضل سے ضائع نہیں ہوا۔بعضوں سے بہت سختی کی ، بعضوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا، کہا گیا کہ آئندہ تمہارے سپرد کوئی خدمت نہیں کی جائے گی لیکن چونکہ سعادت تھی اس لئے انہوں نے میری سختی کو بھی شرح صدر کے ساتھ قبول کیا، سر تسلیم خم کیا ، اپنی غلطیوں کو سمجھا، یا نہیں بھی سمجھا تو معافی مانگی اور عہد کیا کہ آئندہ پھر آپ کو ہماری طرف سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔نیچے اب یہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بالکل نئی حالت پر آچکی ہے۔اب ضرورت ہے کہ اس جماعت کو خود اپنی تربیت کی طرف توجہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔اس بارے میں ان کو سمجھایا جائے کہ سب سے اچھی تربیت وہی ہوتی ہے جو انسان خود کرے۔جس کے دل میں ایک مربی پیدا ہو جائے ، جس شخص کو یہ محسوس ہو کہ میرے سپر د بڑے بڑے کام ہو چکے ہیں اور میں کرنا شروع کر چکا ہوں لیکن میرے اندر پوری استطاعت نہیں ہے ، میں پوری طرح ان کاموں کا اہل نہیں ہوں تبلیغ کرتا ہوں لیکن میرا دینی علم کمزور ہے، نیکی کی تعلیم دیتا ہوں لیکن بنیادی کمزوریاں ہیں۔عبادت کی طرف سے غافل ہوں یا نماز پڑھتاہوں تو ترجمہ نہیں جانتا۔لوگ مجھ سے پوچھیں گے کہ نماز کیا ہے تو میں کیا سمجھاؤں گا۔یہ وہ سوالات ہیں جو خود بخود ایک مبلغ کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور اس سفر کا ایک لازمی حصہ ہیں۔پس اب ضرورت ہے کہ جماعت کو اس اہم شعبے کی طرف متوجہ کیا جائے یعنی خود اپنی