خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد ۱۱ 366 خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء راہ میں دعوت الی اللہ کرتے رہیں گے تو یہ آپ کے نیک اعمال یعنی اندرونی نیکیاں لازماً خدا کے حضور مقبول ہوں گی اور اس کے نتیجے میں آپ کا بیرونی کام پھل دار بنے گا۔بارہا میں نے جماعت کو سمجھایا ہے کہ قرآنِ کریم جو ایک اعجاز ہے ، کلام اور حسنِ کلام کا اعجاز ، اس نے دعوت الی اللہ کے مضمون کو نیک عمل کے ساتھ باندھ دیا ہے۔فرماتا ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا (لحم السجدۃ : ۳۴) اس سے زیادہ حسین قول والا کون ہو سکتا ہے اس سے زیادہ جاذب نظر پر کشش بات اور کس کی ہوسکتی ہے جس نے خدا کی طرف بلایا اور خوبصورت اعمال سے اپنے قول کو تقویت بخشی۔پس دوسری بات جو میں نے محسوس کی ہے اور جس کا پہلی بات سے گہرا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ آپ سپین میں آپس میں چھوٹی چھوٹی کمپنی باتوں پر جھگڑے نہیں کریں۔اس سے پہلے لوگ ملاقاتیں مانگا کرتے تھے اور مجھے اندازہ ہو جاتا تھا کہ مربی کے خلاف شکایتیں کرنی ہیں۔ایک نے شکایت کی دوسرے نے اس کی شکایت کو توڑا، ایک اور نے وقت مانگا اس نے اس کے متعلق کیڑے ڈالے جس نے بات کی تھی ، ایک چوتھے کو خیال آیا کہ میں اس کی بات کا جواب دوں۔عجیب وغریب قسم کی کھچڑیاں بیہودہ ہی پکتی تھیں اور دال میں کہتے ہیں کالا کالا لیکن یہ ایسی کھڑی تھی جس میں دال نہیں صرف کالا کالا ہی ہوتا تھا نہایت طبیعت متنفر ہوتی تھی۔کچھ کوڈانٹا، کچھ کو سمجھایا پیار سے ، کچھ سے خط و کتابت کی لمبا عرصہ بخشیں کیں ،سمجھایا اور میں نے کہا کہ میں اس بات کو سمجھا کے چھوڑوں گا ورنہ نہیں چھوڑوں گا کہ جب تک امیر کی اطاعت پر تم اکٹھے نہیں ہو جاتے جب تک امیر کے ساتھ نرمی کا سلوک نہیں کرتے ، ادب اور محبت کا سلوک نہیں کرتے۔جب تک تمہارا حوصلہ اتنا نہیں بلند ہوتا کہ امیر تم پر سنی بھی کرے اور نا واجب سختی بھی کرے تب بھی جس طرح بچہ اپنے باپ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیتا ہے اور اس کی سخت باتوں کو بھی سن لیتا ہے۔جب تک اس جذبے کے ساتھ اپنے امیر کی باتیں سننے کی عادت نہیں ڈالو گے تمہارے کاموں میں برکت نہیں پڑے گی جو چاہو کرتے رہو۔تمہاری نیکیاں ساری ضائع چلی جائیں گی ان کو پھل نہیں لگے گا کیونکہ قرآن کریم نے تبلیغ کے پھل کے سلسلے میں یہی انداز ہمیں سمجھایا ہے مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا اس سے بہتر کس کے قول میں کشش ہو سکتی ہے۔اَحْسَنُ معنی حسین، جاذب نظر، دلوں کو