خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد ۱۱ 365 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء پہنچاتا۔بہت سے ایسے ہیں جو ہر لحاظ سے بچے ہیں۔ان کی زبان بھی سچی ان کی تحریر بھی کچی ان میں مبالغہ نہیں ہوتا۔ایسے خطوں سے بچی رپورٹیں ملتی ہیں اور دل خوش ہوتا ہے لیکن ایسے بھی ہم میں کمزور ہیں جو اپنی بات کو سجا کر پیش کرنا جانتے ہیں۔خواہ نیت نیک ہی ہو خواہ نیت یہ ہو کہ اس طرح ہم زیادہ دعا ئیں کھینچیں گے مگر زیادہ دعاؤں کے شوق میں جو مبالغہ کر جاتے ہیں اسی حد تک دعاؤں کے فیض سے وہ محروم ہوتے چلے جاتے ہیں۔دعا زمین سے تو اٹھے گی مگر صرف ایک کنارے پر دعا نہیں بنا کرتی۔دعا مکمل تب ہوتی ہے جب دوسرے کنارے تک پہنچے اور وہاں مقبول ہو جائے۔اگر وہاں نہ پہنچے اور اس کا دوسرا سرا عرش کے پاؤں سے نہ باندھا جائے تو خواہ زمین سے عرش تک اٹھتی ہوئی دعا دکھائی دے وہ بریکار جائے گی۔اصل دعا اس کو ملتی ہے جو پاکیزگی اور سچائی کے ساتھ بات بیان کرتا ہے۔مگر بہر حال میری دعا تو یہی ہے کہ جو کمزور ہیں جو کسی وجہ سے اپنی رپورٹوں میں مبالغہ بھی کر دیتے ہیں اگر کوئی کمی رہ جاتی ہے تو اللہ اپنے فضل سے پوری کر دے۔ان کے حق میں بھی دعائیں سنے لیکن جو دل کی گہرائی سے نکل کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچنے والی دعا ہے وہ وہی ہے جب انسان کسی کی محنتوں کے پھل کو دیکھتا ہے۔ایک زمیندار آپ سے کہے کہ میں نے اتنی محنت کی، اتنے بل چلائے ، اتنے پانی دیئے، اتنی راتوں کو جا گا۔بہت خوشی ہوگی اس کی باتیں سن کر لیکن جب آپ پوچھیں کہ گھر میں گندم کتنی ہاتھ آئی تو کہے کہ گندم تو ضائع ہوگئی کچھ بھی ہاتھ نہ آیا تو ساری خوشی ملیا میٹ ہو جائے گی اور افسوس میں بدل جائے گی لیکن ایک شخص کچھ نہ بتائے صرف یہ بتائے کہ میرے گھر خدا کے فضل سے میری زمینوں سے فی ایکٹر ستر من گندم ہاتھ آئی ہے۔وہ ستر من کا لفظ اس کی سارے سال کی محنتوں کی تصویر ایسی خوبصورتی سے آپ کے سامنے بیچ دے گا کہ کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں رہتی۔پس میں نے جو اس دورے میں محسوس کیا ہے۔فرانس میں بھی اور سپین میں بھی وہ یہ ہے کہ وہ لوگ ملے ہیں آکر جن کو تبلیغ پہنچی ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ کہاں سے پہنچی ہے۔جو بیعتیں ہوئی ہیں وہ اس کے علاوہ خود گواہ ہیں اور ہمیشہ کے لئے گواہ بنی رہیں گی کہ خدا کے فضل سے آپ کی چھوٹی سی جماعت میں زندگی کی ایک نئی روح دوڑ رہی ہے اور ابھی آغاز ہے اگر اسی طرح باہمی محبت کے ساتھ ، امیر کی اطاعت میں یکجان ہوتے ہوئے جو بہت ہی ضروری ہے ایک دوسرے پر بدظنیاں کرتے ہوئے نہیں بلکہ حسن ظنیاں کرتے ہوئے ، ایک دوسرے کی کمزوریوں سے درگزر کرتے ہوئے خدا کی