خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 344
خطبات طاہر جلدا 344 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء اپنے وقت کے ہر حصہ کی قیمت حاصل کرنی ہے یا اس کا حساب چکانا ہے اگر قیمت حاصل نہیں کرتا تو خدا کے سامنے اسے حساب دینا ہے۔ پس جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ شرفاء میں تبلیغ ہونی چاہئے نرم لوگوں میں تبلیغ ہونی چاہئے اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ساتھ ساتھ نگرانی بہت ضروری ہے کہ اس تبلیغ کا فائدہ ہے نہیں ہے؟ کس حد تک ہے؟ اور ایک حد کے بعد اللہ تعالیٰ کے سپر د کیا جائے اور انسان ایسے شخص سے ہاتھ کھینچ لے جو کسی طرح اثر قبول نہیں کرتا لیکن اس کے برعکس بھی ایک شکل ہے کہ بعض لوگ ہوتے ہیں اور عام طور پر لوگ ان مخالفوں کا شکار نہیں کرتے اس طرف رخ ہی نہیں صلى الله کرتے قرآن کریم کی ان آیات میں خصوصیت سے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةُ الى محمد مصطفی ﷺ اور ان کے ساتھی شکار یو! تم بڑے بڑے خوں خواروں کا شکار کرنے نکلے ہو۔ ایسے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے نکلے ہو جو تمہاری جان کے دشمن ہیں ان کا جب بس چلے وہ تمہیں ہلاک کر دیں تمہیں تباہ و برباد کر دیں ، تمہارا کچھ بھی باقی نہ چھوڑیں ۔ جاؤ اور خدا کا نام لے کر ان پر ہاتھ ڈالو اور ہم تمہیں گر سکھاتے ہیں کہ کس طرح ان پر فتحیاب ہونا ہے۔ گر کی بات بعد میں آتی ہے لیکن یہاں دیکھیں کہ مومن کے لئے کتنا بلند مقصد بیان کر دیا ۔ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ دیکھو! اچانک تم کیا دیکھو گے کہ وہ شخص جو تمہارا شدید دشمن ہے كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ وہ جانثار دوست میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی نصیحت ہے کہ دین میں جو بڑے بڑے مخالف اور بظاہر سختی سے دین کے ساتھ ٹکرانے والے لوگ ہیں جن سے بظاہر تمہیں خیر کی کوئی امید نہیں ہے ان کا بھی رخ کیا کروان میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے جواہر پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں کہ جب وہ ہاتھ آئیں گے تو بہت قیمتی خزانہ ہاتھ آئے گا ۔ پس اسلام کے آغاز میں ہم یہی حالات دیکھتے ہیں کہ وہ جو جاہلیت میں اسلام کے سب سے بڑے دشمن تھے وہ جب مسلمان ہوئے ہیں تو اسلام کے سب سے بڑے دوست بن گئے اور اسلام کو ان کی وجہ سے غیر معمولی تقویت حاصل ہوئی ۔ پس آپ اپنی تبلیغ میں دشمنوں پر بھی ہاتھ ڈالیں کیونکہ آپ محمد مصطفی ﷺ کے غلام ہیں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ ( فتح : ٣٠ )