خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 345

خطبات طاہر جلد ۱۱ 345 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء صلى الله ان لوگوں میں سے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہونے کے دعویدار ہیں اور آپ کی غلامی کو اپنا فخر سمجھتے ہیں۔پس شکار کے وہ انداز سیکھیں جو آنحضور ﷺ کے انداز ہیں۔ابراہیمی انداز کو آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ابراہیم کی سنت کو مزید صیقل کر دیا گیا ہے۔مزید چمکایا گیا ہے۔ابراہیم کو تو یہ حکم تھا کہ ان پرندوں کو پکڑو جو تم سے مانوس ہو سکتے ہوں اور یہ تبلیغ کا پہلا دور ہے وہ لوگ جو شرافت سے بات کو سنیں ان کے ساتھ تھوڑا سا پیار کیا جائے تو وہ طبعا نرمی رکھتے ہوں اور پیار کا جواب پیار سے دینے والے ہوں۔یہ ابراہیمی طیور میں مر محمد مصطفی اے کے سپر د جو پرندے کئے گئے ہیں وہ خوں خوار دشمن ہیں وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ آپ کو دیکھیں بھی چنانچہ آنحضور ﷺ نے جو پاک تبدیلیاں کر کے دکھائیں وہ ایسے ہی لوگ ہیں جیسا کہ بیان فرمایا گیا ہے کہ تم دیکھو گے کہ تمہارے خونخوار دشمن جانثار دوست بن جائیں گے۔آنحضور ﷺ نے ایسے پتھروں کو موم کر دیا اور ایسے پتھر پھاڑے اور زندگی کے چشمے بہا دیئے کہ انبیاء کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی۔ایک موقع پر ایک صحابی جنہوں نے آنحضور ﷺ کی زندگی میں آپ کی صحبت میں کچھ سال گزارے تھے ان سے آنحضور ﷺ کے وصال کے بعد کسی نے سوال کیا کہ آپ ہمیں آنحضور ﷺ کا حلیہ بتائیں ہم آپ کے منہ سے سننا چاہتے ہیں آپ کی آنکھوں نے ان کو دیکھا ہے جس پیار اور محبت سے آپ وہ تذکرہ کر سکتے ہیں کوئی اور نہیں کر سکتا تو آپ ہمیں بتائیں کہ آنحضور ﷺ کیسے تھے؟ یہ بات سُن کر وہ صحابی جواب دینے کے لئے زار و قطار رونے لگے ان کی چکی بندھ گئی۔پوچھنے والے نے تعجب کیا کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے میں نے تو صرف اتنا سا سوال کیا تھا کہ آنحضور ﷺ کا حلیہ بتا ئیں آپ ﷺ کی شکل کیسی تھی ؟ اور یہ صاحب بجائے حلیہ بتانے کے رونے لگے۔جب کچھ دیر بعد انہوں نے اپنے جذبات پر قابو پایا تو جواب دیا کہ دیکھو آنحضور ﷺ کے زمانہ میں میری زندگی پر دو ہی وقت آئے ایک وقت وہ تھا کہ میں دشمنی میں اتنا شدید تھا کہ نفرت کی وجہ سے میں اس چہرہ کو دیکھ نہیں سکتا تھا۔ان کے نام سے ہی ایسی کراہت آتی تھی ایسا غصہ آتا تھا کہ بارہا مواقع آئے مگر میں نفرت کی وجہ سے آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھ سکا پھر جب محمد مصطفی اللہ کے عشق کا غلام بنا تو ایسی کا یا بیٹی کہ محبت نے جوش مارا اور محبت کی وجہ سے اس وجود پر میری نظر نہیں ٹکتی تھی تو آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ محمدمصطفی سیہ کا حلیہ کیسا تھا تو خدا کی قسم میں نہیں بتا سکتا کیونکہ میری نظروں نے کبھی نفرت سے نہیں دیکھا اور کبھی محبت کے وفور سے نہیں دیکھا صلى الله