خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد ۱۱ 332 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء۔۔۔اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء سے ظہور میں آئے ہیں یا جو کچھ کہ اولیاء ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے اس کا اصل اور منبع یہی دعا ہے۔۔۔“ اور یہ عبارت بھی لطیف ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام بڑا ہی محتاط ہے۔آپ فرماتے ہیں۔۔۔اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء کے ظہور میں آئے ہیں۔۔۔ماضی میں جتنے بھی انبیاء نے معجزات دکھائے یا جو کچھ اولیاء ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور کے بعد وہ عجائب دکھلانے والے علماء بھی لد گئے اور صاحب کرامات لوگ ختم ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کی دنیا میں پھر عجائب دکھانے والے لوگ باقی نہیں رہے۔یہ نہیں فرمایا کہ وہ لوگ ختم ہو گئے فرمایا اب تک امت محمدیہ میں کوئی زمانہ بھی ایسا نہیں آیا کہ کرامات دکھانے والے، عجائب دکھانے والے بزرگ اور اولیاء موجود نہیں تھے۔میرے زمانے تک یہ ان کا کام تھا اور وہ دکھاتے رہے ہیں۔آخر پر جو بات ظاہر ہوئی آپ فرماتے ہیں میرے ذریعہ خدا تعالیٰ ان اعجازات کو جاری و ساری فرماتا ہے فرماتا رہے گا۔۔۔اس کا اصل اور منبع یہی دعا ہے اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشا دکھلا رہے ہیں۔۔۔اور وہ یہی دعائیں ہیں جن کے اثر سے خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔خوارق کہتے ہیں ایسی چیز کو جو عام عادت سے ہٹ کر ہو۔عام طور پر جو دستور دکھائی دیتا ہے۔اس سے ہٹ کر کوئی عجیب سی بات رونما ہو جو ظاہری قانون کے تابع دکھائی نہ دے۔اس کو خارق عادت کہتے ہیں۔عادت سے ہٹی ہوئی چیز قدرت قادر کا تماشہ دکھلا رہے ہیں وہ خوارق ہیں۔وہ خدا کے قانون پر غالب آنے کا تماشا نہیں دکھلا ر ہے۔وہ قدرت قادر کا تماشا دکھلاتے ہیں۔وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں نہاں در نہاں ہیں۔ایک قدرت کے پردے میں ایک دوسری قدرت بھی کارفرما ہوتی ہے اور جس کو تم خارق سمجھتے ہو، جس کو تم سمجھتے ہو کہ قانون سے ہٹی چیز ہے وہ دراصل خدا کی ایک بالا قدرت کا تماشا دکھا رہی ہوتی ہے۔یہ وہ کلام ہے جو ایک عارف باللہ کا، جو خدا سے گہرا تعلق رکھنے والا ہے اس سے ظہور پاتا ہے۔اس کا کلام ہے اور سارا کلام الہی نور سے منور ہے۔کتنا محتاط کلام ہے، کتنا باریک لطافتوں