خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 329
خطبات طاہر جلدا 329 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ایک آیت سورۃ بقرہ آیت ۲۱۱ میں فرمایا هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَيْكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ كياوه اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر اندھیروں کے پردوں میں جو بادلوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں، ایک مثال دی گئی ہے کہ بادلوں میں جن کے اندر ظلمات ہوتی ہیں اور اندھیروں کے پر دے ہوتے ہیں ان میں خدا تعالیٰ نازل ہو اور الامرحلہ ہر معاملے کا فیصلہ کر دیا جائے اور اس قسم کے فیصلے کے متعلق فرمایا وَ إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ ایسے فیصلے اس وقت ہوتے ہیں جب سارے امور خدا کھینچ کر واپس اپنی طرف لے جاتا ہے جب دنیا والوں سے فیصلوں کی طاقت تلف کر دی جاتی ہے اور ایسا وقت آتا ہے کہ جب قوموں کے فیصلے زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر کئے جاتے ہیں۔ایک تو یہ قضاء قد ربھی ہے جس کے نتیجے میں تو میں ہلاک کی جاتی ہیں لیکن ایک اور بھی ہے جس کے نتیجے میں تو میں بچائی جاتی ہیں اور وہ قضاء قدر ہے جس کی طرف اس آیت میں نصیحت فرمائی گئی ہے۔وَ اِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُكُلُّهُ فَاعْبُدُهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اگر ہلاکت کی قضاء قدر کا ظاہر ہونا ہوتا تو اس مضمون کو اس طرح بیان نہ فرمایا جاتا جس طرح اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔اس میں امید کو زندہ رکھا گیا ہے اور فرمایا تو عبادت میں مصروف ہو جا اور عبادت کرتا چلا جا وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اور اللہ پر توکل رکھ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ اور اللہ تعالیٰ اس بات سے غافل نہیں ہے جو تم لوگ اس دنیا میں کرتے رہتے ہو اور کرتے رہو گے۔اس سے پتا چلتا ہے بعض دفعہ جب قو میں ضد کر بیٹھتی ہیں اور بظاہر ان کو بچانے کا کوئی رستہ دکھائی نہیں دیتا اس وقت عبادت کے نتیجے میں اور توکل کے نتیجے میں آسمان سے فیصلہ کیا جاتا ہے اور اس فیصلے کا بھی انسانی کوشش سے گہرا تعلق ہے۔جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ زبر دستی کسی کو تبدیل نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی کوششوں کے نتیجے میں جو بھی ماحصل اس کا انسان کے انجام سے گہرا تعلق ہے وہ لوگ جو ضد کر بیٹھے ہیں ان کو زبردستی بچایا نہیں جاتا لیکن ایک تدبیر ایسی ہے جس سے ان کی ضد کی حالت بدل سکتی ہے اور وہ دعا ہے اور وہ عبادت ہے اگر تم عبادت پر زور دو تو خدا تعالیٰ ان کے اندرونی حالات کو بدل سکتا ہے اور ان کے اندر سے ہی پشیمانی پیدا ہوسکتی ہے اور جب ان کے اندر پشیمانی کے جذبات پیدا ہوں گے تو پھر خدا تعالیٰ کی دوسری تقدیر کہ پشیمان لوگوں کو