خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 325
خطبات طاہر جلدا 325 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء میں شروع سے آخر تک : سے آخر تک بیان ہو رہا ہے۔ بہت زوراً زور لگا یا آنحضرت ﷺ اور آپ کے متبعین نے اور اس پہلے انبیاء نے لیکن وہ بد نصیب تو میں جو بچنے پر آمادہ نہ ہوں انہیں پھر کوئی چیز خدا کی تقدیر اور اس کے پکڑ سے بچا نہیں سکتی۔ یہ اعلان فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ کے دلی جذبات پر نظر ڈالی گئی ہے، آپ کے کیفیات پر نظر ڈالی گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ بات میں بیان کر چکا ہوں کہ آنحضور ﷺ نے جن سورتوں میں عذاب کا ذکر تھا اور پرانی قوموں کا ہلاک ہونے کا ذکر تھا ان سے متعلق فرمایا اور خصوصاً سورہ ھود کے متعلق تھا کہ اس نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ سارے واقعات پڑھتے ھتے ہوئے آنحضور ﷺ کے دل کو گہری تکلیف پہنچتی تھی اور یہ خوف دامن گیر ہو جاتا تھا کہ کہیں میری قوم سے بھی یہ سلوک نہ ہو اور یہ لوگ بھی اسی طرح عذاب کا نشانہ نہ بنیں اور صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیئے جائیں جیسے پہلی قو میں مٹائی گئی تھیں اور اسی دکھ کا آپ نے ذکر فر مایا کہ دیکھو سے میرے بال سورۃ ھود نے سفید کر دیئے۔ صلى الله اس ضمن میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے وَكُلًّا نَقُضُ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ صلى الله عروسه مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ہم جو گزشتہ انبیاء کے قصے تجھے سنا رہے ہیں ڈرانے کیلئے نہیں بلکہ تیرے دل کو تقویت دینے کیلئے اور اس میں ایک پیشگوئی تھی کہ آنحضرت ﷺ کی قوم بچائی جائے گی۔ اپنے اعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض مصلحین کی وجہ سے اور بعض ایسے نیک لوگوں کی وجہ سے جن کی نیکی ان کی بدیوں پر بالآخر لازما غالب آجائے گی۔ یہ وہ مضمون ہے جو یہاں بیان ہوا ہے۔ ایک طرف یہ فرمادیا کہ خدا تعالیٰ زبر دستی کسی کو ہدایت نہیں دیتا، جو قوم بچنا نہ چاہے اسے بچاتا نہیں ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سارے ایک جیسے ہو جاتے مگر ایسا نہیں کیا جاتا اور نہیں کیا جائے گا اور یہ ساری باتیں سن کر آنحضور ﷺ کے دل پر جو گزرتی تھی اور جس کا بیان آپ نے فرمایا اس کیفیت پر نظر ڈال کر اگلی آیت نازل ہوئی معلوم ہوتی ہے فرمایا۔ وَكُلَّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ انباء الرُّسُلِ یہ ساری رسولوں کی باتیں یہ پرانے قصے جو ہم تیرے ساتھ دوہرا رہے ہیں تجھے ڈرانے کیلئے نہیں تیرے دل کو تقویت دینے کیلئے اس میں یہ خوشخبری تھی کہ تیری قوم ہلاکت سے بچ جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ ایمان لے آئے گی بالآخر نجات پائے گی لیکن اس کا ذریعہ کیا ہے ایک طرف ایک تقدیر عام بیان ہو چکی ہے کہ ایسی قو میں جو توجہ نہیں کرتی جو مصلحین صلى الله