خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 324

خطبات طاہر جلد ۱۱ 324 خطبه جمعه ۸ مئی ۱۹۹۲ء اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ مومنوں کیلئے تو حق بھی ہے مَوْعِظَةٌ بھی ہے اور ذِکری بھی ہے لیکن وہ لوگ جو بہر حال ایمان نہیں لائیں گے۔ان سے کہہ دے اعْمَلُوْا عَلَى مَكَانَتِكُمْ تم اپنی جگہ کوششیں کرتے رہو اِنَّا عَمِلُونَ ہم بھی تو مسلسل کوشش میں مصروف ہیں۔وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں۔وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ یہ اللہ ہی کیلئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ابھی پردہ غیب میں ہے وَالَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ اور امر بالآخر اسی کی طرف لوٹنے والا ہے میت کے تمام تر، ہرقسم کا امر بالآخر خداہی کی طرف لوٹنے والا ہے۔فَاعْبُدُهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اے محمد طاہر کا خطاب شروع ہو گیا۔اے محمد ﷺ فَاعْبُدُهُ اللہ کی عبادت کر وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اور اللہ ہی پر توکل کر۔وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ تیرا رب اس بات سے غافل نہیں ہے جو تم سب لوگ کرتے ہو۔اس میں بہت ہی لطیف ضمائر کی تبدیلی ہے۔واحد کا صیغہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کو خطاب کرتے ہوئے چلتا ہے فَاعْبُدُهُ سے لے کر۔فَاعْبُدُہ تو اس کی عبادت کر وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ اور اسی پر توکل کر وَ مَا رَبُّكَ اب تیرا رب غافل نہیں ہے عَمَّا تَعْمَلُونَ یہ نہیں فرمایا کہ اس چیز سے جو تو کرتا ہے عَمَّا تَعْمَلُونَ جو تم سب لوگ کرتے ہو۔اگر اس میں کوئی انذار کا پہلو ہے تو وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر اطلاق نہیں پاتا۔اگر کوئی مخفی ناراضگی کا اظہار عَمَّا تَعْمَلُونَ میں ہو رہا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ خدا غافل ہے یہی رنگ ہے اس عبارت کا کہ کچھ ھنگی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں تو اس سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بچانے کیلئے اچانک جمع کا صیغہ استعمال فرمالیا اور واحد کا صیغہ جس میں اپنائیت چل رہی تھی ، پیار کا اظہار ہورہا تھا اسے ترک فرما دیا۔یہ وہ آیات ہیں اُس رکوع کی آخری آیات جس کی میں نے تین جمعہ پہلے تلاوت کی تھی اور اسی مضمون کو میں آگے بڑھا رہا ہوں۔یہ بات اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمائے اسے بچالیتا ہے اور مصلحین کو بچاتا ہے اور مصلحین میں سے بھی وہ جن کو خدارحم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ان کے اندر بعض ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں سے صرفِ نظر فرماتا ہے اور ان سے بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔ہر شخص رحم ہی سے بچایا جائے گا اپنے زور بازو سے کوئی بچایا نہیں جا سکتا لیکن رحم بچانے پر مستعد اور لوگ نہ بچنے پر کوشاں۔یہ مضمون ہے جو اس رکوع